دنیا
2 منٹ پڑھنے
روس کا ICC کے استغاثہ پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ، ICC کی مذمت
12 دسمبر کو ماسکو سٹی کورٹ نے ICC کے  استغاثہ  کریم خان اور آٹھ ججوں کو اُن الزامات پر سزا سنائی جو روسی حکام نے روسی شہریوں کے خلاف غیر قانونی مقدمہ چلانے سے متعلق  سنائے تھے۔
روس کا ICC کے استغاثہ پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ، ICC کی مذمت
روس- عالمی عدالت انصاف / AP
12 گھنٹے قبل

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ماسکو کی ایک عدالت کی بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے  استغاثہ  اور آٹھ موجودہ ججوں کے خلاف   سنائی گئی سزا کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

12 دسمبر کو ماسکو سٹی کورٹ نے ICC کے  استغاثہ  کریم خان اور آٹھ ججوں کو اُن الزامات پر سزا سنائی جو روسی حکام نے روسی شہریوں کے خلاف غیر قانونی مقدمہ چلانے سے متعلق  سنائے تھے۔

ان حکام کو تین  سے پندرہ سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں  جبکہ کریم خان کو پندرہ سال کی سزا دی گئی اور انہیں بین الاقوامی سطح پر مطلوب قرار دے دیا گیا۔

 ماہرین نے ایک بیان میں کہا کہ یہ سزائیں بین الاقوامی قانون کے تحت   ناقابل قبول ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ الزامات ICC کی اُن  سرگرمیوں  سے  وابستہ ہیں جو مبینہ جنگی جرائم کے سلسلے میں روس کے یوکرین میں کیے گئے حملوں سے متعلق ہیں، جن میں 2023 میں صدر ولادیمیر پوتن اور روسی  بچوں کے حقوق کی کمشنر ماریا لووا بیلووا کے خلاف جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹس بھی شامل ہیں۔

ماہرین نے زور دیا کہ روم اسٹیچیوٹ کے تحت ICC کے ججوں اور پراسیکیوٹرز کو عملی حفاظتی استثنا کے ذریعے تحفظ حاصل ہے اور ملکی عدالتیں ان کے پیشہ ورانہ اختیارات  کے لیے اُن پر مقدمہ  نہیں  چلا سکتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ باضابطہ اطلاع یا قانونی نمائندگی کے بغیر غیر موجودگی میں ہونے والے مقدمات کم از کم قانونی عمل کے معیار پر پورا نہیں اترتےاور روس سے اپیل کی گئی کہ وہ ان سزاؤں کو منسوخ کرے اور بین الاقوامی وارنٹس واپس لے۔

ماہرین نے کہا  کہ کوئی بھی ریاست خود کو جوابدہی سے بچانے کے لیے خود مختاری کا حوالہ نہیں دے سکتی،روس یا دیگر اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی طرف سے عدالتی آزادی کو بدلہ لینے کے ذریعے کمزور کرنے اور ICC کے اہلکاروں کو دھمکانے کی کوششیں بند ہونی چاہئیں۔