چین کے صدر نے یکطرفہ اور دھونس آمیز اقدامات پر تنقید کی ہے اوردنیا کے اہم ممالک کو بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنے کی ترغیب دی ہے۔
شی جن پنگ نے کہا کہ تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ دوسرے ممالک کی عوام کے منتخب کردہ ترقیاتی راستوں کا احترام کریں، بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پابندی کریں۔
ژن ہوا نیوز نے رپورٹ کیا کہ انہوں نے یہ بات دارالحکومت بیجنگ میں آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن سے ملاقات کے دوران کہی۔
چینی رہنما کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکہ نے وینزویلا میں صدر مادورو اور خاتون اول کو گرفتار کر تے ہوئے نیو یارک لے جایا گیا۔
شی نے کہا کہ ایک ایسی دنیا میں جو تبدیلیوں اور افراتفری سے گھری ہوئی ہے، یکطرفہ اور غنڈہ گردی کے اقدامات بین الاقوامی نظام کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔"
امریکہ نے ہفتہ کے روز کاراکاس کے خلاف ایک "بڑے پیمانے پر" آپریشن شروع کیا، جس میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کو گرفتار کیا گیا جو نیو یارک کی عدالت میں فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ میں موجود ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے وینزویلا کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی کاروائی میں تقریبا 80 افراد ہلاک ہوئے۔
مادورو اور فلورز کو بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر میں رکھا گیا ہے۔
انہیں امریکی وفاقی الزامات کا سامنا ہے جو منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد گروہوں کے ساتھ مبینہ تعاون سے منسلک ہیں۔
مادورو نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔









