ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کے بعد آج بروز اتوار ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ نکلے ہیں۔
ان واقعات نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو ڈرامائی طور پر بڑھا دیا اور ایران کے اندر وسیع عوامی ردِعمل کو جنم دیا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے"اسلامی انقلاب کے رہنما شہادت پا گئے" کے الفاظ سے امریکی‑اسرائیلی حملوں میں خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
حکومت نے چالیس روزہ قومی سوگ کا اور سات روزہ سرکاری تعطیل کا اعلان بھی کیا ہے۔
خامنہ ای کی موت کی خبر کے ردِعمل میں ایک بڑے عوامی ہجوم نے ایران کے مختلف شہروں کی سڑکوں پر احتجاج کیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ مظاہرین، اپنے غم کا اظہار کرنے کے لئے، ہاتھوں میں ایرانی پرچم لئے شہری مراکز میں جمع ہوئے ۔
تہران میں سینکڑوں افراد انقلاب اسکوائر میں جمع ہوئے اور امریکی اور اسرائیلی اقدامات کی مذمت میں نعرے لگائے۔
مقدس شہر قم میں حملوں کی مذمت کے لئے سینکڑوں افراد حضرت معصومہ کے مزار پر جمع ہوئے ۔
ایران کے سب سے معزز مذہبی مقامات میں سے 'مشہد' میں سوگواروں نے امام رضا کے مزار کے گنبد پر سیاہ جھنڈا ڈال کر علامتی دکھ کا اظہار کیا۔مزار کے اطراف میں کئی لوگ آنسو بہاتے بھی دیکھے گئے۔
خامنہ ای کے خاندان کے افراد ہلاک
ایرانی عہدیداروں نے تسلیم کیا ہے کہ ہفتے کی صبح کئے گئے حملے میں خامنہ ای کوتہران میں ان کے دفتر میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ خامنہ ای کے زیر زمین چھپے ہوئے ہونے سے متعلقہ دعووں کے بالکل برعکس حملے کے وقت وہ اپنے فراِض کی ادائیگی میں مصروف تھے اور عوام کے درمیان تھے۔ ان کی موت ان کی عمر بھر کی عوامی قیادت کی عکاس ہے۔
ایرانی ذرائع نے کہا ہے کہ خامنہ ای کے خاندان کے کئی افراد، جن میں ان کی بیٹی، داماد، پوتا اور بہو شامل ہیں، حملوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔
حملوں کے نتیجے میں وسیع شہری جانی نقصان بھی ہوا، ایرانی ریڈ کریسنٹ نے حملوں میں 201 اموات اور 747 زخمیوں کی اطلاع دی ہے۔













