دنیا
3 منٹ پڑھنے
آسٹریلیا اور بھارت نے دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے
دفاعی معاہدے کے تحت کینبرا اور نئی دہلی کے درمیان فوجی تعاون اور زیر آب ربط و ضبط پر توجہ مرکوز کی جائے گی
آسٹریلیا اور بھارت نے دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے
The deal reflects India’s growing role in regional strategic partnerships. / AP

آسٹریلیا اور بھارت کے وزرائے دفاع نے آج بروز جمعرات ایک نئے دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ  انڈو-پیسفک خطے میں استحکام کو برقرار رکھنے کی ضمانت ہے۔

بھارت کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ آسٹریلیا کے دورے پر ہیں۔ دورے سے متعلق جاری کردہ بیان میں  آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلز نے کہا  ہےکہ راج ناتھ سنگھ 2013 کے بعد آسٹریلیا کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر دفاع ہیں۔

مارلزکے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "آسٹریلیا اور بھارت اعلیٰ درجے کے دفاعی شراکت دار ہیں اور ہمارا دفاعی تعاون انڈو-پیسفک استحکام کو برقرار رکھنے میں عملی نتائج دے گا"۔

مارلز اور سنگھ کے دستخط کردہ معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مشترکہ عملے کی بات چیت کے لیے ایک فورم قائم کرنا اور آبدوزوں کی بچاؤ کے لیے تعاون فراہم کرنا ہے۔

دستخط سے قبل جاری کردہ بیان میں مارلزنے کہا ہے کہ "آج جو دو طرفہ اقدامات کیے جائیں گے وہ ہماری دفاعی شراکت داری میں نمایاں ترقی کی اور اس  ترقی کے مستقبل کے لیے ہمارے مشترکہ عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔"

جولائی میں بھارت نے پہلی بار آسٹریلیا میں منعقدہ دو سالہ ملٹری مشقوں 'ٹیلیسی مین سائبر' میں حصہ لیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی دفاعی تعلقات کا اظہار ہوا تھا۔

ٹیلیسی مین سائبر  کا آغاز 2005 میں امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان مشترکہ مشق کے طور پر ہوا تھا۔ اس سال 19 ممالک کے 35,000 سے زیادہ فوجی اہلکاروں نے اس میں حصہ لیا تھا۔

امریکہ اور چین کے درمیان کشمکش میں بھارت کا کردار

بھارت اور آسٹریلیا 'کواڈ' نامی اتحاد کے ذریعے امریکہ اور جاپان کے ساتھ منسلک ہیں۔

چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے جولائی میں واشنگٹن میں ملاقات کی اور انڈو-پیسفک میں سمندری سکیورٹی پر تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔

آسٹریلین اسٹریٹجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی سینئر محقق راجی  راجا گوپالن نے کہا ہے کہ سنگھ کا دورہ آسٹریلیا علامتی اور عملی دونوں لحاظ سے "انتہائی اہم" ہے۔

انہوں نے کہا  ہےکہ اگرچہ کسی  بھارتی وزیر دفاع نے 12 سالوں سے آسٹریلیا کا دورہ نہیں کیا تھا لیکن  مارلز  کئی بار اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے لیے بھارت کا دورہ کر چُکے ہیں۔

راجا گوپالن نے کہا  ہےکہ بھارت ایسے دو طرفہ تعلقات کا استعمال، انڈو۔پیسفک میں چین اور امریکہ کی اسٹریٹجک کشمکش میں کردار ادا کرنے کے لیے کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ " بھارت کی امریکہ سے قربت بہت حد تک تاریخی ہچکچاہٹ پر منحصر ہے لیکن بھارت چین  کے بھارت کا  نمبر ون  سکیورٹی مسئلہ ہونے کو بھی قبول کرتا ہے اور اسے احساس ہے کہ  چین کا مسئلہ حل کرنے  کے لیے اسے امریکہ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے" ۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا اپنے جنوبی بحرالکاہل کے پڑوسیوں کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی تعلقات قائم کر رہا ہے۔

آسٹریلیا نے پیر کے روز پاپوا نیو گنی کے ساتھ بھی  ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کی رُو سے دونوں ممالک کی دفاعی افواج کو باہم مربوط کیا جائے گا۔

یہ،1951 میں امریکہ اور نیوزی لینڈ کے ساتھ کیے گئے اینزس معاہدے کے علاوہ، آسٹریلیا کا واحد اتحاد کی سطح کا سکیورٹی معاہدہ ہے جو آسٹریلیا کا اتحاد کی سطح کا  واحد سکیورٹی معاہدہ ہے۔

دریافت کیجیے
جنوبی چین میں سیلاب سے 39 افراد ہلاک، پانی کا گودام پھٹنے سے تباہی مچی
ایران امریکی حملوں میں پانچ صوبوں میں 14 افراد ہلاک،، تہران-مشہد ریل آپریشن بند
بھارت جوہری توانائی کے منصوبوں کے تحت آسٹریلیا سے یورینیم برآمد کرے گا
شام دہشتگردی کا حامی ملک نہیں رہا:امریکہ
ایران کا امریکہ کو انتباہ: صرف تہران ہی آبنائے ہرمز کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا مجاز ہے
صدر ایردوان  نے دفاعی تعلقات کے نمایاں ہونے والے انقرہ نیٹو سمٹ کو 'تاریخی کامیابی' قرار دیا
ایران: مغالطہ آمیز کوشش کا فوری جواب دیا جائیگا
جنوب مغربی پاکستان میں ہونے والی جھڑپ میں11 سیکیورٹی اہلکار شہید، 19 دہشت گرد ہلاک: ذرائع
کراچی کے قریب لاپتہ ہونے والے بوئنگ کارگو طیارے کی تلاش جاری
ایردوان نے نیٹو اتحادیوں میں دفاعی تعاون پر پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا
نیٹو رہنما سمٹ کے آخری دن آرکٹک، ایران اور یوکرین کے معاملات پر توجہ دیں گے
یورپی یونین اور نیٹو کی طرف سے"اتحاد" کا پیغام
ایران کی طرف سے اسلام آباد فائر بندی مفاہمتِ یادداشت کی خلاف ورزی پر امریکہ کی مذمت
امریکہ  نے ایران پر تازہ حملوں کی لہر شروع کر دی
ترکیہ طویل فاصلے کے کروز میزائل 'آتماجا' فراہم کرے گا: نیٹو نائب سربراہ