سیاست
2 منٹ پڑھنے
آذربائیجان سے معاہدہ ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ منسک گروپ کو تحلیل کردے: پاشینیان
آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان نے آذربائیجان کے ساتھ امن معاہدے اور او ایس سی ای (یورپی  سلامتی اور تعاون کی تنظیم) منسک گروپ کو بیک وقت تحلیل کرنے کی دستاویز پر دستخط کرنے کی تجویز پیش کی ہے
آذربائیجان سے معاہدہ ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ منسک گروپ کو تحلیل کردے: پاشینیان
/ AFP

آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان نے آذربائیجان کے ساتھ امن معاہدے اور او ایس سی ای (یورپی  سلامتی اور تعاون کی تنظیم) منسک گروپ کو بیک وقت تحلیل کرنے کی دستاویز پر دستخط کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

"ہم آذربائیجان کی طرف سے او ایس سی ای منسک گروپ کو تحلیل کرنے کے ایجنڈے کو سمجھتے ہیں۔ درحقیقت، اگر ہم کاراباخ تنازعہ کا صفحہ بند کر رہے ہیں تو پھر ہمیں ایک ایسے فارمیٹ کی ضرورت کیوں ہے جو اس کے تصفیے سے متعلق ہو؟ پشینیان نے یہ بات دارالحکومت یریوان میں ملک کی قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تاہم، پشینیان نے دلیل دی کہ او ایس سی ای منسک گروپ کا اصل میں ایک وسیع سیاق و سباق ہے، اور یہ کہ یریوان اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ باکو آرمینیا کے اس اقدام کو "اپنی سرزمین پر تنازع کو ختم کرنے اور اسے آرمینیا کو منتقل کرنے" کے اقدام کے طور پر نہ دیکھے۔

ہم ایک امن معاہدے کو حتمی شکل دینے اور ساتھ ہی او ایس سی ای منسک گروپ کو تحلیل کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔

 آذربائیجان نے فوری طور پر پشینیان کی تجویز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

کاراباخ جنگ

فرانس، روس اور امریکہ کی سربراہی میں 1992 میں قائم ہونے والے او ایس سی ای منسک گروپ کا مقصد کاراباخ تنازع کے حل میں سہولت فراہم کرنا تھا۔

دونوں سابق سوویت جمہوریہ کے درمیان تعلقات 1991 سے کشیدہ ہیں ، جب آرمینیائی فوج نے کاراباخ اور اس سے ملحقہ سات علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا ۔

آذربائیجان نے 2020 کے موسم خزاں میں 44 روزہ جنگ کے دوران زیادہ تر علاقے کو آزاد کرایا تھا ، جو روس کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد ختم ہوا تھا جس نے معمول پر لانے اور حد بندی مذاکرات کے دروازے کھول دیے تھے۔

ستمبر 2023 میں آذربائیجان نے کاراباخ میں مکمل خودمختاری قائم کی جب علاقے میں علیحدگی پسند قوتوں نے ہتھیار ڈال دیے۔

مارچ میں باکو اور یریوان نے کہا تھا کہ وہ امن معاہدے پر اتفاق رائے پر پہنچ گئے ہیں لیکن اس کے بعد سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر سرحد پار حملوں کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

دریافت کیجیے
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پا گیا
آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی: ٹرمپ
مراکشی عہدیدار: غیر قانونی نقل مکانی سے نمٹنا مشترکہ ذمہ داری ہے
روس: جولائی میں ماسکو پر 6,000 سے زیادہ ڈرون حملے کیے گئے
ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریئٹ میزائل سسٹم لائسنس دینے پر اتفاق کیا ہے، زیلینسکی
فرانسیسی صدر میکرون کا ترکیہ سے آگ بجھانے والے طیارے روانہ کرنے کا شکریہ
متحدہ عرب امارات کی مغربی کنارے پر دو مساجد کو نذر آتش کیے جانے کی مذمت
رومانیہ نے دو دنوں میںفضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواز میں دوسرا ڈرون مار گرایا
ٹرمپ نیتن یاہو کی ترکیہ کو F-35 کی فروخت کی مخالفت پر طیش میں ہیں: رپورٹ
امریکہ نے ایران پر حملوں کو معطل کر دیا: رپورٹ
F-35 سے لیکر بحیرہ اسود تک: نیٹو انقرہ سمٹ کے اہم نتائج
"اجلاس اچھا رہا"بہت سے مسائل حل ہوئے ہیں:ٹرمپ
نیٹو انقرہ سمٹ کا اختتامی اعلامیہ جاری
ٹرمپ: ہم ایردوان کے ساتھ ایف-35 کے معاملے پر بات کریں گے
ترک وزیر خارجہ فیدان: یورپی سلامتی کو یورپی یونین تک محدود نہیں کیا جا سکتا
فیدان  کے انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل امریکی سینیٹرز سے مذاکرات
یورپ انقرہ میں نیٹو اجلاس کو ٹرمپ کو اجتماعی دفاع میں اپنی دلچسپی دکھانے کا ،مظاہرہ کرے گا: جرمنی
انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل پوتن اور ٹرمپ کی یوکرین کے معاملے پر بات چیت
اسرائیل حکومت اپنی بگڑتی ساکھ کو بچانے کے لیے نئے دشمن کی متلاشی ہے، ترک وزیر خارجہ
روس اور امریکہ پر  عظیم جوہری طاقتیں ہونے کے ناطے عالمی سلامتی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، پوتن