سیاست
2 منٹ پڑھنے
آذربائیجان سے معاہدہ ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ منسک گروپ کو تحلیل کردے: پاشینیان
آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان نے آذربائیجان کے ساتھ امن معاہدے اور او ایس سی ای (یورپی  سلامتی اور تعاون کی تنظیم) منسک گروپ کو بیک وقت تحلیل کرنے کی دستاویز پر دستخط کرنے کی تجویز پیش کی ہے
آذربائیجان سے معاہدہ ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ منسک گروپ کو تحلیل کردے: پاشینیان
/ AFP
15 اپریل 2025

آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان نے آذربائیجان کے ساتھ امن معاہدے اور او ایس سی ای (یورپی  سلامتی اور تعاون کی تنظیم) منسک گروپ کو بیک وقت تحلیل کرنے کی دستاویز پر دستخط کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

"ہم آذربائیجان کی طرف سے او ایس سی ای منسک گروپ کو تحلیل کرنے کے ایجنڈے کو سمجھتے ہیں۔ درحقیقت، اگر ہم کاراباخ تنازعہ کا صفحہ بند کر رہے ہیں تو پھر ہمیں ایک ایسے فارمیٹ کی ضرورت کیوں ہے جو اس کے تصفیے سے متعلق ہو؟ پشینیان نے یہ بات دارالحکومت یریوان میں ملک کی قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تاہم، پشینیان نے دلیل دی کہ او ایس سی ای منسک گروپ کا اصل میں ایک وسیع سیاق و سباق ہے، اور یہ کہ یریوان اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ باکو آرمینیا کے اس اقدام کو "اپنی سرزمین پر تنازع کو ختم کرنے اور اسے آرمینیا کو منتقل کرنے" کے اقدام کے طور پر نہ دیکھے۔

ہم ایک امن معاہدے کو حتمی شکل دینے اور ساتھ ہی او ایس سی ای منسک گروپ کو تحلیل کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔

 آذربائیجان نے فوری طور پر پشینیان کی تجویز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

کاراباخ جنگ

فرانس، روس اور امریکہ کی سربراہی میں 1992 میں قائم ہونے والے او ایس سی ای منسک گروپ کا مقصد کاراباخ تنازع کے حل میں سہولت فراہم کرنا تھا۔

دونوں سابق سوویت جمہوریہ کے درمیان تعلقات 1991 سے کشیدہ ہیں ، جب آرمینیائی فوج نے کاراباخ اور اس سے ملحقہ سات علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا ۔

آذربائیجان نے 2020 کے موسم خزاں میں 44 روزہ جنگ کے دوران زیادہ تر علاقے کو آزاد کرایا تھا ، جو روس کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد ختم ہوا تھا جس نے معمول پر لانے اور حد بندی مذاکرات کے دروازے کھول دیے تھے۔

ستمبر 2023 میں آذربائیجان نے کاراباخ میں مکمل خودمختاری قائم کی جب علاقے میں علیحدگی پسند قوتوں نے ہتھیار ڈال دیے۔

مارچ میں باکو اور یریوان نے کہا تھا کہ وہ امن معاہدے پر اتفاق رائے پر پہنچ گئے ہیں لیکن اس کے بعد سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر سرحد پار حملوں کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

دریافت کیجیے
تہران کی نیک نیتی کو کمزوری نہ سمجھا جائے: باقر قالیباف
پاکستانی وزیر اعظم انطالیہ سے صدر ایردوان  کے لیے تعریفی الفاظ اور دوستی کے پیغامات کے ساتھ روانہ
اسرائیل سیکورٹی کو بہانہ بنا کر 'زمینوں پر مزید قبضہ' کر رہا ہے، ترک وزیر خارجہ فیدان
آسڑیلیا اور جاپان کے مابین 7 بلین ڈالر کے جنگی جہازوں کی تیاری کا معاہدہ طے
ترک وزیر خارجہ کی امریکہ۔ایران معاہدے کے ایجنڈے پر مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے ہم منصبوں سے ملاقات
ایردوان: ایران پر غیر قانونی حملوں سے علاقائی سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا ہے
ایران: جب تک لبنان میں فائر بندی جاری ہے ہُرمز کھُلا رہے گا
صدر رجب طیب ایردوان کی پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات
ایران نے آبنائے ہُرمز کو تمام جہازوں کے لئے کھولنے کا اعلان کر دیا
آرتیمیس دوئم کی ٹیم زمینی ماحول سے ہم آہنگی کے مرحلے میں
دس روزہ لبنان۔اسرائیل جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہو گیا
انطالیہ ڈپلومیسی فورم 2026 شروع ہوگیا
آئی ایم ایف: مہنگائی اور سست اقتصادی ترقی یورپ کی منتظر ہے
عرب ممالک کا اسرائیل-لبنان فائر  بندی پر خیر مقدم، اسلحہ کو سرکاری کنٹرول میں لینے پر زور
ترکیہ: اردوعان۔محمود ملاقات