سیاست
2 منٹ پڑھنے
نیٹو اور برطانوی سربراہان کا یوکرین کے لیے مضبوط فوجی معاونت کا عندیہ
ڈائوننگ سٹریٹ کی مذاکرات میں علاقائی سلامتی پر بھی بات چیت ہوئی، جس میں سٹارمر نے اسرائیلی حملے پر مذمت کی اور تنازع کی کمی کی اپیل کی۔
نیٹو اور برطانوی سربراہان کا یوکرین کے لیے مضبوط فوجی معاونت کا عندیہ
رٹے نے برطانیہ کی دفاعی اخراجات میں اضافے کی لگن اور اس کی پیشرو کردار کی تعریف کی۔ / AA
10 ستمبر 2025

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے منگل کے روز ڈاؤننگ اسٹریٹ میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کی میزبانی کی۔ یہ ملاقات یوکرین ڈیفنس کانٹیکٹ گروپ کے لندن میں ہونے والے اجلاس کے بعد ہوئی۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق، رہنماؤں نے دوحہ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسٹارمر نے حالیہ اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور خطے میں مزید کشیدگی سے  اجتناب  برتنے کی اہمیت پر زور دیا۔

یوکرین کے حوالے سے، دونوں رہنماؤں نے فرنٹ لائن کی صورتحال کا جائزہ لیا اور کیف کو ضروری فوجی صلاحیتیں فراہم کرنے کے تقاضے کو بیان کیا۔

روٹے نے اسٹارمر کو UDCG کے اجلاس میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں آگاہ کیا، جہاں اتحادیوں نے حمایت بڑھانے کی کوششوں کی توثیق کی۔ دونوں رہنماؤں نے امریکی تعاون کو اس اتحاد کے منصوبے میں شامل کرنے کا خیر مقدم کیا۔

انہوں نے روس پر  پابندیوں میں اضافے سمیت دباؤ بڑھانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا،  تاکہ صدر ولادیمیر پوتن کو بامعنی امن مذاکرات میں شامل ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔

نیٹو کے مطابق،  گزشتہ روز روٹے نے برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی، وزیر خارجہ یوویٹ کوپر، یوکرینی وزیر دفاع ڈینیس شمیہال، اور جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس کے ساتھ علیحدہ  علیحدہ  مذاکرات کیے تھے۔ روٹے نے یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتوں کو آگے بڑھانے میں فرانس کے ساتھ برطانیہ کے قائدانہ کردار اور دفاعی اخراجات بڑھانے کے عزم کو سراہا۔