امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے آغاز سے اب تک تقریباً 9,000 امریکی مشرقِ وسطیٰ سے نکل چکے ہیں۔
یہ بیانات منگل کو امریکہ اور اسرائیل کی تہران پر بمباری کے دوران جاری کئے گئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اب جنگ کے خاتمے پر ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے "بہت دیر" ہو چکی ہے ۔ جنگ چوتھے روز میں داخل ہو چکی ہے اور اس دوران ایک اسکول کے 165 بچوں اور اسکول کے عملے سمیت سینکڑوں ایرانی ہلاک ہوچُکے ہیں۔ جنگ میں امریکہ کے بھی 6 فوجی مارے گئے ہیں۔
ہفتے کے دن شروع ہونے والے امریکی۔اسرائیلی حملوں کے بعد جوابی کارروائی میں تہران کے ڈرون اور میزائل خلیجی ممالک میں تیل کی تنصیبات اور امریکی سفارت خانوں پر گرے ہیں۔ تہران نواز حزبِ اللہ کے میدان میں آنے کے بعد اسرائیل نے حزبِ اللہ سے لڑائی کی خاطر لبنان میں اپنی فوجیں مزید اندر دھکیل دی ہیں۔
روبِیو نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ اس وقت تقریباً 1,600 امریکی امداد کی درخواست کر رہے ہیں۔
روبِیو نے منگل کو دبئی میں امریکی قونصل خانے کے ساتھ واقع پارکنگ ایریا پر ڈرون حملے کی اور تمام عملے کےبحفاظت ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔
روبیو کی پریس کانفرنس ایسے وقت پر طے پائی ہے کہ جب ڈیموکریٹوں اور بعض ریپبلکنوں کی طرف سے تفصیلی معلومات کے مطالبے کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ قومی سلامتی مشیر کانگریس کے اراکین کے سامنے ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ کے حق میں دلائل پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
توقع ہے کہ روبیو، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگ سیتھ، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل ڈین کین پہلے مکمل 100 رکنی سینٹ کو اور بعد میں 432 رکنی اسمبلی کو بھی بریفنگ دیں گے۔
واضح رہے کہ ری پبلکن ممبران کو سینٹ اور کانگریس دونوں میں ایک معمولی اکثریت حاصل ہے اور عام طور پر جب وائٹ ہاؤس اور کانگریس ایک ہی جماعت کے کنٹرول میں ہوں تو وہ ٹرمپ کی پالیسیوں کی مضبوط حمایت کرتے رہے ہیں۔
لیکن مشرقِ وسطیٰ کی اس جنگ نے ٹرمپ کی جماعت کے چند اراکین کو بھی ڈیموکریٹوں میں شامل کر دیا ہے ۔ ان اراکین کا موقف ہے کہ صدر کو بیرونِ ملک لڑائی کے لیے فوج بھیجنے سے پہلے کانگریس کی منظوری حاصل کرنی چاہیے۔









