مشترکہ امریکی۔اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہای کی ہلاکت کے بعد ایران نے اسرائیل کے خلاف جوابی بیلسٹک میزائل مہم تیز کر دی ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایرانی میزائل حملوں سے اسرائیل میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
اسرائیل کے آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ اور ایرو سمیت جدید کثیرالسطحی فضائی دفاعی نظاموں نے ایرانی میزائلوں کی اکثریت کو ناکارہ بنا دیا ہے لیکن بعض کا نشانے پر لگنا شہری نقصان کا سبب بنا ہے۔
سب سے ہلاکت خیز حملہ اتوار کوالقدس کے مغربی شہر 'بیت شیمش' میں ایک ایرانی بیلسٹک میزائل کے ایک محلے کو نشانہ بنانے سے ہوا ہے۔
میزائل نے ایک بم پناہ گاہ سمیت متعدد عمارتوں کو تباہ کر دیا اور دھماکوں کے نتیجے میں چھتیں گِر گئیں۔
ماگن ڈیوڈ آڈوم (MDA)، اسرائیل کی قومی ہنگامی طبی سروس، نے ابتدائی طور پر دن بھر میں ہلاکتوں میں اضافے کی اطلاع دی جو ابتدا میں 6تھی، پھر 8ہوئی اور بعد ازاں9 تک پہنچ گئی ۔ دریں اثنا زخمی ہونے والے درجنوں افراد میں سے2 کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بیت شیمش میں ہلاکتوں کی تعداد9 تک پہنچ گئی اور جائے وقوعہ کے مکانات اور ایک پناہ گاہ کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
جیروسلم پوسٹ نے بھی حملے میں 9 اسرائیلیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی اور منہدم عمارتوں کے درمیان مزید زخمیوں اور گمشدہ افراد کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
اس سے پہلے MDA اور دیگر خبروں کے مطابق ہفتہ کی شب سے یکم مارچ تک جاری ایک الگ میزائل حملے میں تل ابیب کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں 23 اور 68 سالہ 2 عورتیں ہلاک اور 120 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں ۔
ہارٹز اور ٹائمز آف اسرائیل نے القدس اور اس کے جوار کے علاقوں میں مزید حملوں کی خبر دی ہے۔ حملوں میں شیل کے ٹکڑوں سےالقدس میں 7 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
اسرائیل کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے رہائشیوں سے چوکس رہنے کی اپیل کی ہے اور وسطی و شمالی علاقوں میں بار بار سائرن بج رہے ہیں۔
















