دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکی ریاست ٹیکساس میں سیلاب کی آفت میں کم ازکم 13 افراد ہلاک، بیسیوں لا پتہ
حکام نے کہا کہ 20 افراد اب بھی لاپتا ہیں، ان میں سے بہت سے ایک تمام لڑکیوں کے سمر کیمپ سے ہیں۔
امریکی ریاست  ٹیکساس میں  سیلاب کی آفت میں کم ازکم 13 افراد ہلاک، بیسیوں لا پتہ
Residents were urged to shelter in place and move to higher ground if they were near creeks or streams. / Reuters
5 جولائی 2025

امریکی ریاست ٹیکساس کے کاؤنٹی کیر میں ایک ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا ہے، جہاں "تباہ کن" سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور کئی دیگر لاپتہ ہو گئے ہیں۔

یہ سیلاب جمعرات کی رات شروع ہوا اور جمعہ کی صبح تک جاری رہا، جب شدید بارشوں نے گواڈالوپ دریا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کی سطح 11.8 میٹر سے زیادہ بلند ہو گئی، جو 1987 کے دوسرے سب سے بڑے سیلاب سے بھی زیادہ تھی۔

کیر کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے ایک نیوز کانفرنس میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

ٹیکساس کے لیفٹیننٹ گورنر ڈین پیٹرک نے کہا کہ تقریباً 20 افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں سے زیادہ ترکا تعلق گرلز  کیمپ مسٹک سےہے۔

پیٹرک نے اسے "تباہ کن سطح" کا سیلاب قرار دیتے ہوئے تصدیق کی کہ "سینکڑوں افراد"، کم از کم 14 ہیلی کاپٹرز اور 12 ڈرونز کے  ذریعے  تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

کاؤنٹی جج راب کیلی کے دستخط شدہ ہنگامی اعلان میں کہا گیا کہ سیلاب نے "وسیع پیمانے پر  مالی و جانی نقصان" پہنچایا ہے، اور مزید نقصان کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

کاؤنٹی کی 4 جولائی کی تقریبات منسوخ کر دی گئیں، کیونکہ سیلابی پانی نے پارکوں کو ڈھانپ لیا اور دریا کے ساتھ گھروں کو خالی کرنے پر مجبور کر دیا۔

رہائشیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی جگہ پر رہیں اور اگر وہ ندیوں یا نالوں کے قریب ہیں تو اونچی جگہ پر منتقل ہو جائیں۔

خاندانوں کی اپیل

درجنوں خاندانوں نے مقامی فیس بک گروپس میں شیئر کیا کہ انہیں حفاظتی حکام کی طرف سے افسوس دہ فون کالز موصول ہوئیں، جن میں انہیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹیاں بہہ جانے والے کیمپ کیبنز اور گرے ہوئے درختوں میں سے ابھی تک نہیں ملی ہیں۔

کیمپ مسٹک نے والدین کو ایک ای میل میں کہا کہ اگر انہیں براہ راست رابطہ نہیں کیا گیا ہے، تو ان کے بچے کا پتہ لگا لیا گیا ہے۔

کیمپ ایک ایسی پٹی پر واقع ہے جسے "فلیش فلڈ ایلی" کہا جاتا ہے، کمیونٹی فاؤنڈیشن آف دی ٹیکساس ہل کنٹری کے سی ای او آسٹن ڈکسن نے کہا، جو ایک خیراتی ادارہ ہے جو اس آفت  کے لیے  غیر منافع بخش اداروں کی مدد کے لیے عطیات جمع کر رہا ہے۔

ڈکسن نے کہا، "جب بارش ہوتی ہے، تو پانی مٹی میں جذب نہیں ہوتا۔ یہ پہاڑی سے نیچے بہتا ہے۔"

کیمپ کے رہنماؤں نے کہا کہ ان کے پاس بجلی اور وائی فائی کی سہولت موجود نہیں، اور کیمپ کی طرف جانے والی شاہراہ بہہ گئی ہے۔

دریا پر موجود دو دیگر کیمپوں، کیمپ والڈیمار اور کیمپ لا جونٹا، نے انسٹاگرام پوسٹس  پر لکھا ہے  کہ وہاں کے تمام کیمپرز اور عملہ محفوظ ہیں۔

 

دریافت کیجیے
غزہ پر اسرائیلی فضائی حملہ، ایک بچے اور حاملہ عورت سمیت 4 فلسطینی ہلاک
اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی جوڑے اور ان کے دو بچوں کو گولی مار کے قتل کر دیا
یوکرین: روسی بمباری میں چھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں
ایران: تین امریکی ہوائی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے اور نیتن یاہو کو دھمکی
مقبوضہ دریائے اردن میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے جاری
فائر بندی کے باوجود غزّہ پر اسرائیلی حملے جاری
حماس کی ایران سے اپیل: ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کریں
امریکہ مزید فوجی اور جنگی بحری جہاز مشرق وسطی میں بھیج رہا ہے: رپورٹ
ٹرمپ: امریکہ  نے ایرانی جزیرےخارگ پر بڑے پیمانے پر بمباری کی ہے
ہمارے تیل کے بغیر عالمی منڈیاں غیر مستحکم رہیں گی:روس
امریکی فوجی طیارہ مغربی عراق میں کریش کر گیا
چین: آبنائے ہُرمز میں حملے فوری طور پر بند کئے جائیں
تیل کی قیمتیں 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں
ایران: اسکول پر حملہ 'ناقابلِ معافی جنگی جرم' ہے
یوکرین اور برطانیہ دہشتگرد حملوں میں ملوث ہیں:روس
اسپین  نے اسرائیل کی سفیرہ کو  بر طرف کر دیا
"ٹرمپ خوش ہوا"امبانی کی 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری
بھارت نے بنگلہ دیش کو ڈیزل کی فراہمی شروع کر دی
ڈالر کی قدر میں تنزلی آنی شروع ہو گئی
شمالی کوریا: ہم، سیول-واشنگٹن فوجی مشقوں کا جواب دیں گے