تترکیہ کی یورپی یونین میں شمولیت تب تک ممکن نہیں رہے گی جب تک بلاک اپنی سیاسی ذہنیت میں بنیادی تبدیلی نہ لائے، اتوار کو وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے کہا، اور برسلز پر ترکیہ کو شناخت، مذہب اور تہذیب کی بنیاد پر خارج کرنے کا الزام لگایا۔
اسکائی نیوز عربیہ سے انٹرویو میں فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور یورپی یونین کے درمیان مشترکہ مفادات کی بے مثال سطح کے باوجود ایک گہرا اور مزید مضبوط رکاوٹ پیشرفت کو روک رہی ہے۔
فیدان نے کہاکہ"جب تک یورپی یونین، ترکیہ کے بارے میں اپنی موجودہ سیاسی پوزیشن برقرار رکھے گی، مجھے یقین نہیں کہ ترکیہ یورپی یونین کا رکن بنے گا۔
شناخت پر مبنی سیاست ترکیہ کی رکنیت کی راہ میں رکاوٹ
فیدان نے کہا کہ یورپی یونین کا ترکیہ سے متعلق موقف 'شناختی سیاسی ذہنیت پر مبنی ہے جو ان کے خیال میں رسمی رکنیت کے معیار پر پورا اترنے کے باوجود الحاق کو غیر ممکن بنا دیتی ہے۔ اگرچہ ترکیہ بیس سال سے زائد عرصہ سے باضابطہ طور پر یورپی یونین کا امیدوار ہے، انسانی حقوق، حکمرانی کے معیار، اور علاقائی جیوپولیٹیکل تنازعات کے خدشات کی بنا پر مذاکرات بار بار رکے ہیں ۔
وزیرِ خارجہ کے مطابق، یہ بنبست وسیع سیاسی اور ثقافتی تعطل کی عکاسی کرتا ہے، جس میں یورپی یونین ترکیہ کا جائزہ ایک ایسے فریم ورک کے تحت لے رہی ہے جو، ان کے بقول، حقیقی انضمام کے ساتھ بنیادی طور پر مطابقت نہیں رکھتا۔
یورپی انضمام تہذیبی سطح تک نہیں پہنچ سکا
یورپی منصوبے پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے، فیدان نے تسلیم کیا کہ یورپی یونین نے ایک فوقِ قومی نظام قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جو ملکوں کی خود مختاری سے آگے جاتا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اس کامیابی نے حقیقی تہذیبی تنوع کو قبول کرنے تک کا سفر مکمل نہیں کیا۔
فیدان نے کہا کہ "یورپی یونین ایک فوقِ قومی ادارہ بننے میں کامیاب ہو گئی، لیکن وہ ایک فوقِ تہذیبی ادارہ نہیں بن سکی، ترکیہ کو باہر رکھنے کی وجہ مذہبی اور تہذیبی تفاوت کے تاثر سے تعلق رکھتا ہے۔
انہوں نے اس معاملے کو فنی معیارات کی عدم تکمیل کے بجائے شناخت کا مسئلہ قرار دیا، اور اشارہ دیا کہ ترکیہ کی رکنیت کو التوا میں ڈالنا ثقافتی حد بندیوں سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ پالیسیوں کے فقدان کی بنا پر۔
عالمی نظم تہذیبی شمولیت پر منحصر ہے
آخر میں، فیدان نے ترکیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کے بنبست کو وسیع عالمی چیلنجوں سے جوڑا، اور کہا کہ دنیا کے سب سے اہم مسائل کو اخراجی رویوں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بجائے، انہوں نے مختلف تہذیبوں کو ایک ساتھ لانے والے جامع تعاون کے ماڈلز کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ انسانیت کا مستقبل مختلف تہذیبوں کی مشترکہ فریم ورک کے تحت بقائے باہم پر منحصر ہے، اور یہ ان کا بالواسطہ تنقیدی موقف تھا کہ یورپی یونین، ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلق میں اس مثالی تصور پر پورا نہیں اتر سکی۔
















