ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
صدر ایردوان کی مسلم ممالک میں مضبوط ٹرانسپورٹ انضمام کی اپیل
ترک صدر کا کہنا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں اضافہ سے عالمی سطح پر تجارت اور سماجی تعامل میں اضافہ ہوگا،
صدر ایردوان کی مسلم ممالک میں مضبوط ٹرانسپورٹ انضمام کی اپیل
ترکی ٹرانس کیسپیئن مشرق-مغرب وسطیٰ راہداری منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔ / Reuters Archive
13 فروری 2026

صدر رجب طیب ایردوان نے اسلامی تعاون تنظیم کے اراکین کے درمیان نقل و حمل کے نظام میں مزید مضبوطی اور یکجہتی کا مطالبہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ موثر اور قابلِ اعتماد نیٹ ورکس اسلامی دنیا کی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہیں۔

استنبول میں جمعرات کو OIC کے وزراء  مواصلات کے اجلاس کے لیے بھیجے گئے ویڈیو پیغام میں، ایردوان نے کہا کہ مسلم ممالک ایک وسیع جغرافیہ پر پھیلے ہوئے ہیں جو ایشیا سے افریقہ اور یورپ سے مشرقِ وسطیٰ تک محیط ہے، اور ان کے پاس قدرتی راہداری، متحرک نوجوان آبادی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مالی منڈیاں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "تاہم، اس عظیم صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے اور جغرافیائی فوائد کو اسٹریٹجک قوت میں تبدیل کرنے کے لیے ہمیں مؤثر، قابلِ اعتماد اور مربوط نقل و حمل کے نیٹ ورکس کی ضرورت ہے۔"

صدر ایردوان نے زور دیا کہ شاہراہوں، ریلوے، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے درمیان مضبوط روابط نہ صرف تجارت کو فروغ دیں گے بلکہ رکن ممالک کے درمیان سماجی اور ثقافتی روابط کو بھی بڑھائیں گے۔

ترکی کے حالیہ بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں ،  کہ جن میں مارمرائے ریلو ٹنل، یوریشیا ٹنل اور بڑے پل شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ ملک نے عالمی تجارتی راستوں کو مضبوط کیا ہے اور ریلوے، سمندری اور ہوابازی کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے اراکین کو جوڑنے کے لیے روڈ میپ  کا تعین

صدر ایردوان نے کہا کہ ٹرانس کیسپین مشرق-مغرب درمیانی راہداری منصوبے میں ترکیہ کے  تعاون کے  ذریعے، ملک نے تاریخی شاہراہ  ریشم کو ایک جدید نقطہ نظر  کے ساتھ دوبارہ  جانبر  کیا ہے۔

تاہم، ہم ان سرمایہ کاریوں کو محض قومی فریم ورک تک محدود نہیں سمجھتے۔

"ہمارا مقصد اسلامی تعاون  تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ یکجہتی اور روابط کو مضبوط کرنا، سرحد پار کوریڈوروں کو فروغ دینا، اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اضافی قدر پیدا کرنا ہے۔"

صدر نے نوٹ کیا کہ کانفرنس کے دوران ہونے والی تعمیری مذاکرات نے اہم اقدامات کی راہ ہموار کی ہے۔

صدر نے کہا کہ"ہم نے رکن ممالک کے درمیان نقل و حمل کے روابط کو مضبوط کرنے، بین الاقوامی فورمز پر یکجہتی بڑھانے، اور ترکیہ کی (OIC) صدارت کے دوران  مواصلاتی روابط اسٹریٹجی دستاویز تیار کرنے کے لیے ایک روڈ میپ بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ"بلاشبہ، ان فیصلوں کے مؤثر نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ تکنیکی اجلاسوں میں خلل نہ ہو اور نگرانی کے میکانزم احتیاط کے ساتھ چلائے جائیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ آج ہم نے جو عزم ظاہر کیا ہے وہ اس راستے کو ہموار کرے گا۔

 

دریافت کیجیے
عالمی صمود بحری بیڑہ دوبارہ غزہ کے لئے عازمِ سفر
ترکیہ: اردوعان۔ماکرون ملاقات
پاکستان میں 21 گھنٹے کے طویل امریکہ۔ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے
امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی: ایران ذرائع ابلاغ
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع
ایران جنگ می امریکی طیارہ نما ڈراون طیاروں کو وسیع پیمانے کا نقصان
اسرائیل کے غزہ کے ایک مہاجر کیمپ پر حملے میں فلسطینی شہری شہید
امریکی خفیہ رپورٹ کے مطابق چین ایران کو دفاعی فضائی نظام فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے
امریکی نائب صدر جے ونس امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے
اسرائیل کا دعویٰ: ہم  نے ایران جنگ کے دوران 10,800 ہوائی حملے کیے ہیں
میلانیا ٹرمپ: میرے  جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین سے کبھی کوئی تعلقات نہیں رہے
مشرق وسطی میں ایرانی ڈرونز گرانے میں مدد کی ہے:زیلنسکی
اسرائیل انسانیت کے لیے ایک "کینسر ہے": خواجہ آصف
ایرانی سینیئر سفارتکار  امریکہ۔اسرائیل دہشت گرد حملے میں ہلاک
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے