صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ نئے حالات میں سامنے آنے عالمی نظم و نسق کے مرکزی قطبوں میں سے ایک بن جائے گا۔
صدر ایردوان نے ترک کاروباری شخصیات کی کنفیڈریشن کے ساتویں غیر معمولی عمومی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ،شام کی طرح ، ہم ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس میں ہم اپنی قربانیوں اور کوششوں کا ثمر پائیں گے اور تاریخ اور ضمیر کے صحیح رخ پر کھڑے رہنے کے نفع کو حاصل کریں گے۔"
انہوں نے کہا کہ دنیا آہستہ آہستہ اُس جانب بڑھ رہی ہے جس کا ہم ذکر کرتے چلے آئے ہیں۔ وہ نکتہ چینی جو ہم برسوں سے عالمی سیاست کے بارے میں کر رہے تھے، آج ان کی درستگی واضح ہو رہی ہے۔"
ایردوان نے کہا کہ ترکیہ کا راستہ اور مستقبل روشن ہیں، نئے دروازے کھلیں گے، نئے مواقع پیدا ہوں گے اور توقع سے بڑھ کر امکانات سامنے آئیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ایک بالکل نئے سفر پر ہیں جہاں ہماری داستانیں یاد رکھی جائیں گی، ہماری کامیابیوں کی بات دوست اور دشمن دونوں کریں گے اور بالآخر ایک عظیم اور طاقتور ترکیہ وجود میں آئے گا،‘‘
انہوں نے کاروباری افراد اور تاجروں سے کہا کہ وہ اُن ماہرِ معاشیات کونظر انداز کریں جو برسوں سے ترکیہ کے بحران، افراتفری، ہنگامہ خیزی اور معاشی مشکلات میں ڈوبنے کے منتظر ہیں۔
گرین لینڈ کے معاملے میں ثالثی کا کردار
دریں اثنا، ایک امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ترکیہ امریکہ اور یورپ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے فارن پالیسی پروگرام کے تحت اسٹروب ٹالبٹ سینٹر برائے سیکیورٹی، حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی کے ماہر فِلِپ گورڈن کا کہنا ہے کہ جب ٹرانساٹلانٹک تعلقات دباؤ میں آ رہے ہوں تو ترکیہ کی پوزیشن اسے ایک اہم مقام دلا رہی ہے۔
گورڈون نے کہا کہ ’’خاص طور پر جب ٹرانساٹلانٹک تعلقات زوال پذیر ی کے شکار ہیں تو ترکیہ کا مؤقف بڑا اہم ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ترکیہ پہلے ہی یوکرین اور روس کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ ساتھ ہی واشنگٹن کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش بھی کر رہا ہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکثر ترک صدر رجب طیب ایردوان کے بارے میں مثبت انداز میں بات کی ہے۔















