ترک صدر رجب طیب ایردوان نے شام میں استحکام اور مفاہمت کا مطالبہ کیا ہے اور تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد کو ترجیح دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو دیرپا امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال سکیں۔
ایردوان نے دارالحکومت انقرہ میں انصاف و ترقی پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ شام میں استحکام اور امن قائم ہو،ہم چاہتے ہیں کہ شامی متحد ہو کر اپنا مستقبل خود تعمیر کریں ۔
انہوں نے برسوں کے تنازع کے بعد ملک کی متنوع برادریوں کے مابین تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ طویل المدتی تصفیے کا خاکہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے فریقین کو ماضی کی غلطیوں کی دوبارہ تکرار سے بچنے کی تنبیہ کی۔
صدر نے کہا کہ شام میں دیرپا امن کا روڈ میپ وضع کر دیا گیا ہے، فریقین کو غلط اندازوں، ماضی کی غلطیوں کی تکرار، یا انتہا پسند مطالبات سے گریز کرنا چاہیے ۔
جنگ کی انسانی قیمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بہنے والا ہر قطرہِ خون ہمارے دل توڑ دیتا ہے، چاہے وہ عرب ہو، ترکمین، کُرد ہو یا نسطوری، شام میں ہر ضائع ہونے والی جان ہمیں اپنا ایک حصہ کھو دینے جیسا محسوس کرواتی ہے۔
انہوں نے تعمیر نو اور اقتصادی بحالی کی طرف رخ کرنے کی بھی اپیل کی اور کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ شام کے وسائل اور سطحِ زمین و زیرِ زمین دولت کو شہروں کے نیچے سرنگیں کھودنے کے بجائے ملک کے تمام طبقات کی خوشحالی کے لیے استعمال کیا جائے۔
علاقائی خدشات کے حوالے سے ایردوان نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ ترکیہ غلبہ چاہتا ہے، ترکیہ خطے میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے ،ہم مخلصانہ طور پر بھائی چارہ چاہتے ہیں۔
















