ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
صدر ایردوان کی آذربائیجان اور روس سے تنازعات کے درمیان باہمی تعلقات کو تحفظ دینے کی اپیل
صدر اردوان نے آذربائیجان سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ناخواہش کردہ  واقعات ماسکو اور باکو کے تعلقات کو 'ناقابل تلافی نقصان' نہ پہنچائیں۔
صدر ایردوان کی آذربائیجان اور روس سے تنازعات کے درمیان باہمی تعلقات کو تحفظ دینے کی اپیل
Turkish President Recep Tayyip Erdogan answers questions of the press members in a plane / AA

صدر رجب طیب اردوان نے روس اور آذربائیجان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ کے ماسکو اور باکو دونوں کے ساتھ 'گہرے اور اسٹریٹجک تعلقات' ہیں۔

صدر اردوان نے آذربائیجان سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہناخواہش کردہ  واقعات ماسکو اور باکو کے تعلقات کو 'ناقابل تلافی نقصان' نہ پہنچائیں۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان امن معاہدے پر بات کرتے ہوئے ایردوان نے کہا: 'ہم اس امن معاہدے کے ساتھ نئے اور تاریخی مواقع کے دروازے  کھلنے کی تمنا کرتے ہیں۔'

مغربی آذربائیجان کو  ناہچوان کے علاقے سے جوڑنے والی  اسٹریٹجک  راہداری زنگیزار جو چین سے ترکیہ اور روس تک ایک اہم رابطہ بننے والا ہے کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ یہ راستہ نہ صرف آذربائیجان بلکہ پورے خطے کے لیے مواقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انقرہ اس راستے کو ایک 'جغرافیائی-معاشی انقلاب' کا حصہ سمجھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا۔اگرچہ آرمینیا نے ابتدائی طور پر زنگیزار راہداری کی مخالفت کی تھی، لیکن اب ایریوان اقتصادی انضمام میں شامل ہونے کے لیے زیادہ لچکداری کا مظاہرہ کر  رہا ہے۔

واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان ایف-35 طیاروں کی فراہمی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے، صدر اردوان نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ٹرمپ کے دور میں ترکیہ کو ایف-35 طیاروں کی فراہمی شروع ہو جائے گی اور امید ظاہر کی کہ امریکی صدر 'ہمارے معاہدے کا احترام کریں گے۔'

انہوں نے کہا کہ ایف-35 کا مسئلہ ترکیہ کے لیے  نہ صرف فوجی ٹیکنالوجی بلکہ عالمی پلیٹ فارمز، خاص طور پر نیٹو میں  مضبوط شراکت داری کا معاملہ بھی ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن و امان اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ناکام ہوا، اور انقرہ اس بار دوبارہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

صدر نے کہا، ترکیہ کا ماننا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نے غزہ میں بھی امن کے لیے دروازے کھول دیے ہیں، اور مزید کہا کہ حماس نے اس معاملے پر بارہا اپنی نیک نیتی  کا مظاہرہ کیا ہے۔

شام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ ترکیہ نے شام پر اپنی  ریڈ لائن  واضح کر دی ہیں اور کہا کہ ملک کسی بھی منصوبے کو برداشت نہیں کرے گا جو دہشت گرد گروہوں یا ان کے اتحادیوں کو قانونی حیثیت دے۔

انہوں نے مزید کہا: 'ہم شمالی شام میں آزاد تجارتی زونز، لاجسٹک مراکز، اور سرحدی بازاروں جیسے ماڈلز نافذ کر سکتے ہیں۔'

صدر  الہام علی یف نے مجھے بتایا ہے کہ : میں شام کو قدرتی گیس کی ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں۔'

دریافت کیجیے
اسرائیل: مقبوضہ مشرقی القدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا جائے
امریکہ کے ایرانی ٹینکروں پر حملے، مشرق وسطی میں تناؤ بڑھ گیا
نیتین یاہو نے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا ہے:نفتالی بینیٹ
نیوزی لینڈ: اسرائیلی کاروائیاں پائیدار امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں
جب تک حملہ آور پشیمان نہیں ہوتے ایران مزاحمت جاری رکھے گا: پزشکیان
ترک دفترِ خارجہ کی طرف سے ملادچ کے لیے آخری رسومات کے خصوصی اہتمام پر رد عمل
اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران ایک فلسطینی شخص کو قتل کر  دیا گیا
ترکیہ: جنگی مجرم کی تکریم ناقابلِ قبول اور مذموم حرکت ہے
برطانیہ پر پابندی اور اس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے:اسرائیلی وزرا
حماس کا اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے شواہد چھپانے کا الزام
کینیڈا نے امریکی سامان پر 20 بلین ڈالر کے ٹیرف لگا دیئے
روس کے کیف پر میزائل اور ڈراون حملوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے
حوثیوں کے  حملے، سعودی عرب کی مذمت
امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان نے مشترکہ فوجی مشق شروع کر دیں
ترکیہ میں عجائب گھروں کی تعداد 2025 میں سالانہ 4.4 فیصد بڑھ کر 664 ہو گئی