رائے
دنیا
5 منٹ پڑھنے
جنوبی کوریا: ترکیہ کا بڑھتا ہوا عالمی کردار اور دفاعی حکمتِ عملی قابلِ ستائش ہے
جنوبی کوریائی وزیر خارجہ چو ہیون نے ترکیہ کی عالمی سپلائی چینز، بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط اور غزہ سمیت علاقائی امن کے لیے جاری دپلومیٹک کوششوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
جنوبی کوریا: ترکیہ کا بڑھتا ہوا عالمی کردار اور دفاعی حکمتِ عملی قابلِ ستائش ہے
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے 21 جنوری 2026 کو انقرہ، ترکی میں جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون سے ملاقات کی۔ / AA
23 جنوری 2026

جنوبی کوریا

جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے عالمی سطح پر ترکیہ کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کیا اور سیئول اور انقرہ کے درمیان، بالخصوص دفاعی صنعت میں باہمی تعاون  کے فروغ پر زور دیا۔

چو ہیون  نے جمعہ کو انادولو  ایجنسی کو بتایا کہ دونوں ممالک،  مضبوط دفاعی صلاحیتوں کے حامل شعبوں میں اپنا بین الاقوامی وقار بتدریج مضبوط کر رہے ہیں اور باہمی  تعاون کئی مشترکہ منصوبوں، بالخصوص آلتائے  ٹینک  منصوبے"  پر مل کر کام کر رہے ہیں۔

مستقبل کے تعاون کے بارے میں پُرامید ہونے کا اظہار کرتے ہوئے، چو  ہیون نے کہا کہ یہ شراکت نہ صرف دونوں ممالک کی دفاعی صنعت کی صلاحیتوں کو بڑھائے گی بلکہ خطے اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

ترک دفاعی صنعت میں " نمایاں ترقی"

انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریائی  اور ترک رہنماؤں نے دفاعی صنعت میں ایک مضبوط تر عالمی مقام حاصل کرنے کی طرف پیش رفت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے باہمی اعتماد کی بنیاد پر مشترکہ پیداوار، تکنیکی تعاون اور تعلیمی تبادلے کے پروگراموں میں گہرا تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

چو نے کہا، "ہم ترک دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے کی طویل المدتی اور پُرعزم کوششوں کا قریب سے جائزہ لے رہے  ہیں،  اس کی دلیل کے طور پر انہوں نے  یہ بھی کہا کہ گزشتہ سال،  پہلی بارترکیہ کی  دفاعی برآمدات10 بلین ڈالر  سے زیادہ رہیں  اور اس نے IDEF کی کامیاب میزبانی کی، جو اس کی اب تک کی سب سے بڑی دفاعی صنعت نمائش تھی، یہ تمام چیزیں "قابلِ ذکر ترقی کے ٹھوس شواہد" ہیں۔

چو نے جنوبی کوریا کی عملی خارجہ پالیسی کے نقطہ نظر کا  خاکہ  بھی پیش کیا اور زور دیا کہ سیئول،  امریکہ -چین رسہ کشی کے دوران محض توازن کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ قومی مفادات کا جامع اور کثیرالجہتی نقطۂ نظر سے جائزہ لیتا ہے۔

چین کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعاون کے ذریعے نئے ترقیاتی مواقع تلاش کرتے ہوئے، چو نے کہا کہ جنوبی کوریا صنعتی مسابقت کو بڑھانے کے لیے اعلی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں امریکہ کے ساتھ بھی  تعاون کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

ترکیہ پر گہرا اعتماد اور دوستی

چو نے کہا کہ ترکیہ کو جنوبی کوریا کی تاریخ میں ایک خاص مقام  حاصل ہے ، انہوں نے  یاد دہانی کرائی  کہ انقرہ نے کوریائی جنگ کے دوران جنوبی کوریا کی آزادی اور جمہوریت کے دفاع کے لیے تقریباً 20,000 فوجی بھیجے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مشترکہ ورثہ دونوں اقوام کے درمیان "گہرے اعتماد اور دوستی کی بنیاد" بنا ہوا ہے۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ اس تاریخی ربط کی بنیاد پر قائم باہمی تعاون سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں مسلسل وسیع ہوا ہے۔

چو نے صدر لی جے میونگ کے گزشتہ سال ترکیہ کے سرکاری دورے کو — جو 13 سال میں پہلا تھا — ایک اہم موڑ قرار دیا جس نے دونوں ممالک کے اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے اور اعلیٰ سطحی گفت و شنید بڑھانے کے عزم کی تصدیق کی۔

تجارت، علاقائی سفارتکاری اور ثالثی کی کوششیں

چو نے کہا کہ تجارتی تعلقات بھی مضبوط ہوئے ہیں، 2013 میں نافذ  العمل  ہونے والے جنوبی کوریا-ترکیہ آزاد تجارتی معاہدے کے تحت،  دوطرفہ تجارت 2023 میں 10.4 بلین  ڈالر تک تک پہنچ گئی، جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں طرفین اب مستقبل پر مبنی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہیں، جن میں دفاع، جوہری توانائی، بائیوٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور مصنوعی ذہانت شامل ہیں۔

علاقائی امور پر، چو نے کہا کہ جنوبی کوریا شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت کے چینلز دوبارہ کھولنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے حالانکہ وہ طویل مدت کے تعطل کا شکار رہے ہیں، اور زور دیا کہ جزیرہ نما کوریا پر کشیدگی کم کرنے اور اعتماد کی بحالی کے لیے طویل المدتی نقطہ نظر ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیئول ایسے ممالک کے ساتھ تعاون کو قابلِ قدر سمجھتا ہے جو امن اور بقائے باہمی کی حمایت کرتے ہیں، جن میں ترکیہ بھی شامل ہے۔

چو نے غزہ میں جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور ترکیہ کی ثالثی کوششوں کی تعریف کی، اور جنوبی کوریا کے دو ریاستی حل کی حمایت اور انسانی ہمدردی امداد کے جاری رہنے پر زور دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیئول اس موقف پر قائم ہے کہ یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔

ترکیہ ایک اسٹریٹجک مرکز

ترکیہ کو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کو جوڑنے والے اسٹریٹجک چوراہے کے طور پر بیان کرتے ہوئے، چو نے کہا کہ انقرہ کا کردار عالمی سپلائی چینز کو متنوع بنانے اور علاقائی پیداواری مراکز قائم کرنے میں روز بروز اہم ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 200 سے زائد کورین کمپنیوں نے پہلے ہی ترکیہ میں سرمایہ کاری کر رکھی  ہے اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے پالیسی معاونت جاری رکھنے کا عہد کیا گیا ہے۔

2027 میں سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ کے پیش نظر، چو نے کہا کہ جنوبی کوریا نوجوانوں کے تبادلوں، سیاحت اور ثقافتی تعاون کے ذریعے عوامی رابطوں کو مزید گہرا کرنا چاہتا ہے۔

 

 

دریافت کیجیے
جنوبی کوریائی دفاعی فرم کا ناروے کو راکٹ فروخت کرنے کا معاہدہ
امریکہ: بھارت، ایران کی بجائے ونیزویلا سے تیل خریدے گا
ترکیہ: جمہوریہ کانگو کے ساتھ اظہارِ تعزیت
بھارت کے وزیر اعظم دورہ اسرائیل کے دوران ناچے اور گانا گایا
ایران: مذاکرات کے لیے ایک 'منظم فریم ورک' 'تشکیل پا رہا  اور آگے بڑھ رہا ہے
ترکیہ: اسرائیلی کاروائیاں بین الاقوامی کوششوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں
انڈونیشیا میں لرزشِ اراضی کے واقعات میں اموات کی تعداد کم از کم 64 ہو گئی
اسرائیل نے غزہ میں فائر بندی کے باوجود کم از کم 12 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا
شام کے ایس ڈی ایف کے ساتھ انضمام کے معاہدہ پیر سے نافذ ہو جائے گا
امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے ایپسٹین کیس سے متعلق 3 ملین نئے صفحات کا اجراء
روس نے ٹرمپ کی درخواست پر یوکرینی دارالحکومت کیف پر حملوں کو روک دیا
اسرائیل نے غزہ میں 70,000 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر لیا
امریکہ نے ایران کے خلاف مشرق وسطی میں ایک اور جنگی جہاز تعینات کیا ہے — رپورٹ
چین نے 11 مجرموں کو سزائے موت دے دی
ایران: ٹرمپ جنگ شروع کر سکتے ہیں اسے قابو میں نہیں رکھ سکتے