امریکی سفیر نے ترکیہ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ٹرکش ایئرلائنز کی جانب سے بوئنگ طیاروں کی خریداری کا معاہدہ مکمل ہو چکا ہے، جو کہ امریکی طیارہ ساز کمپنی اور ترکیہ کی قومی ایئرلائن کے درمیان ایک بڑا معاہدہ ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی سفیر ٹام باراک نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "معاہدہ مکمل ہو چکا ہے،" تا ہم جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا یہ لین دین مکمل ہو گیا ہے، تو انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ان کے یہ بیانات ترک صدر رجب طیب ایردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آئے۔
ترکش ایئرلائنز نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ بوئنگ کے ساتھ ممکنہ آرڈر کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔
ترکش ایئرلائنز کے سینئر نائب صدر برائے مواصلات، یحییٰ اُستون نے اس وقت کہا تھا، "یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ہم کافی عرصے سے بوئنگ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔"
بوئنگ نے باراک کے بیانات پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، اور ترکش ایئرلائنز نے بھی ابھی تک کوئی تازہ بیان جاری نہیں کیا۔
ٹرکش ایئرلائنز کی توسیعی حکمت عملی
ایئرلائن اور بوئنگ نے گزشتہ سال چار 777 کارگو طیاروں کے آرڈر کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا تاکہ عالمی کارگو مارکیٹ میں ایئرلائن کی پوزیشن کو مضبوط کیا جا سکے۔
یہ معاہدہ ترکش ایئرلائنز کی توسیعی حکمت عملی کا حصہ تھا، جس میں کارگو اور مسافروں کی گنجائش میں اضافہ شامل ہے تاکہ بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
ایک اور ترک ایئرلائن، پیگاسس، نے بھی گزشتہ سال 200 بوئنگ طیاروں کے آرڈر کا اعلان کیا تھا، جو امریکی طیارہ ساز کمپنی کے لیے ترکیہ کی مارکیٹ کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
بوئنگ نئی ڈیلز حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، جبکہ اسے یورپی حریف ایئربس کے ساتھ سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
ترکیہ کا بڑھتا ہوا ہوا بازی کا شعبہ — جس میں استنبول ایئرپورٹ ایک اہم عالمی مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے — دونوں کمپنیوں کے لیے توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
اگرچہ باراک کی تصدیق سے معاہدے کی تکمیل کا اشارہ ملا، لیکن تفصیلات کی عدم موجودگی نے آرڈر کے حجم اور ترسیل کے شیڈول کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی۔
صنعتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکش ایئرلائنز اور بوئنگ کے درمیان کوئی نیا معاہدہ طویل فاصلے کے مسافر طیاروں کے ساتھ ساتھ اضافی کارگو طیاروں پر بھی مشتمل ہو سکتا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔
اردوان اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں وسیع تر اقتصادی اور سیکیورٹی امور پر بھی بات چیت ہوئی، لیکن دونوں رہنماؤں نے بوئنگ کے حوالے سے بات چیت کا عمومی طور پر ذکر نہیں کیا۔
تاہم، باراک کی تصدیق نے اس معاہدے کی اہمیت کو اجاگر کیا، جو کہ امریکہ-ترکیہ تعلقات اور عالمی ہوا بازی کی مارکیٹ دونوں کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔














