ایلون مسک کی اسپیس ایکس فرم نے ایک بیان کے مطابق اپنی مصنوعی ذہانت کمپنی xAI کو ایک انضمام کے ذریعے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے جس کا مقصد خلائی بنیادوں پر ڈیٹا سینٹرز تعینات کرنا ہے۔
اس حصول سے اسپیس ایکس کی راکٹ صلاحیتیں xAI کی ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر وہ چیز بن رہی ہیں جسے مسک نے "کرہ ارض پر اور اس سے بعی موثر ترین ، عمودی طور پر مربوط جدت کا انجن" قرار دیا۔
یہ انضمام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بڑے ٹیکنالوجی اداروں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار توسیع کے نتیجے میں مالی دباؤ نمایاں بننے لگا ہے۔
مسک نے کہا کہ اسپیس ایکس سیٹلائٹس کا ایک جال مدار میں بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو مدار میں ڈیٹا سینٹرز کی طرح کام کریں گے اور مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خلا میں شمسی توانائی استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ضروریات زمین پر 'بغیر کمیونٹیوں اور ماحولیات کو متاثر کیے بغیر ' پوری نہیں کی جا سکتیں۔
مسک کا کہنا ہے کہ "قریباً مستقل شمسی توانائی کو براہِ راست بروئے کار لا کر اور کم آپریٹنگ لاگت کے ساتھ، یہ سیٹلائٹس ہماری کمپیوٹنگ کو وسعت دینے کی صلاحیت میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گے۔"
عالمی رسائی میں توسیع
اسپیس ایکس کا ہدف ایک ملین سیٹلائٹس تعینات کرنا ہے جو ڈیٹا سینٹرز کے طور پر کام کریں گے اور کمپنی کے اسٹارشپ راکٹ کا استعمال کریں گی، فی گھنٹہ ایک پرواز کی شرح حاصل کرتے ہوئے اسے بروئے کار لایا جائیگا اور ہر پرواز 200 ٹن تک سازو سامان کی ترسیل کر سکے گی۔
اس اعلان میں منصوبے کو عملی جامہ پہنائے جانے کے لیے مالی وسائل اور سیٹلائٹ ڈیٹا سینٹرز کی ابتدائی تعیناتی کے لیے کسی معینہ مدت کا حد کو واضح نہیں کیا گیا۔
یہ انضمام مسک کے کاروبار کو مزید مربوط کرتا ہے، انہوں نے2022 کے آخر میں ایکس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو خریدنے کے بعد پہلے AI کو X کے ساتھ ضم کیا تھا۔
xAI گروک چیٹ بوٹ چلاتی ہے اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں مسک کی کوششوں کا مرکزی جز رہی ہے۔
توقع ہے کہ فرم ، کمپیوٹنگ وسائل اور تکنیکی مہارت کو یکجا کرے گی کیونکہ مسک خلاء میں بڑے پیمانے پر AI کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر نصب کرنے کے اپنے وژن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔










