امریکی وزیر ِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کو یورپی ممالک کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے دھمکی آمیز محصولات کے ردِعمل میں جوابی اقدامات سے خبردار کیا۔
بیسنٹ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاؤوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران صحافیوں کو کہا: "میرے خیال میں یورپ کا یہ اقدام بہت بے دانشانہ ہوگا۔'"
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ خودمختارڈینش علاقے گرین لینڈ پر کنٹرول قائم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اسے "اسٹریٹجک اثاثہ" سمجھتے ہیں اور "ہم نصف کرہ کی سلامتی کسی اور کے سپرد نہیں کریں گے۔"
ناروے کے وزیرِ اعظم کے لیے صدر کے پیغام جس میں وہ اپنا گرین لینڈ کا مطالبہ نوبل امن ایوارڈ نہ ملنے سے جوڑتے دکھائی دیے، کے بارے میں دریافت کیے جانے پر بیسنٹ نے کہا: "مجھے صدر کے ناروے کو بھیجے گئے خط کے بارے میں کوئی علم نہیں۔"
تاہم انہوں نے بتایا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ یہ بالکل بے بنیاد بات ہے کہ صدر یہ سب نوبل انعام کی وجہ سے کر رہے ہوں گے۔"
ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں کہا تھا کہ جب تک ڈنمارک گرین لینڈ کو سونپنے پر متفق نہ ہو، یکم فروری سے برطانیہ، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے اور سویڈن پر امریکہ بھیجے جانے والے تمام سامان پر 10 فیصد محصول عائد کیا جائے گا ۔
اس اعلان پر امریکی اتحادیوں نے غصے میں اسے "بلیک میلنگ" قرار دیا، اور جرمنی کے نائب چانسلر لارس کلنگبائل نے پیر کو کہا کہ یورپ جوابی اقدامات کی تیاری کر رہا ہے۔
پیر کو بعد میں پوچھے جانے پر کہ ایسا کوئی معاہدہ جس میں گرین لینڈ حاصل نہ کیا جائے کے امکانات کیا ہیں، بیسنٹ نے کہا:"میں فی الحال صدر ٹرمپ کی بات کو ہی اس کا جواب مانوں گا۔"
انہوں نے ایک صحافیوں سے کہا: “امریکہ نے پاناما چینل کیسے حاصل کیا تھا؟ ہم نے اسے فرانسیسیوں سے خریدا تھا۔"
انہوں نے کہا: "امریکہ نے امریکی ورجن جزائر کیسے حاصل کیے؟ ہم نے انہیں ڈینشوں سے خریدا۔"
بیسنٹ نے خاص طور پر اس جزیرے کی اسٹریٹجک اہمیت دہرائی، کیونکہ وہ کمیاب زمینی معدنیات کا منبع ہے جو متعدد جدید ٹیکنالوجیوں کے لیے نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے ڈنمارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "فرض کریں ایک دن وہ چینیوں کو ناراض کرنے کے بارے میں فکر مند ہو جائیں؟ انہوں نے پہلے ہی گرین لینڈ میں چینی کان کنی کی اجازت دے رکھی ہے، ہے نا؟









