روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے ان تاثر کو مسترد کیا ہے کہ برکس معاشی بلاک کو فوجی اتحاد میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ریایبکوف نے ہفتے کو سرکاری خبر رساں ایجنسی طاس سے ایک انٹرویو میں کہا کہ برکس نہ تو کوئی فوجی اتحاد ہے اور نہ ہی ایسا اجتماعی سلامتی کا ادارہ ہے جس پر باہمی فوجی امداد کے تقاضے عائد ہوں۔
ریابکوف نے کہا"یہ کبھی اسی شکل میں تصور نہیں کیا گیا تھا، اور برکس کو اسی سمت میں تبدیل کرنے کے کوئی منصوبے نہیں ، اور دلیل دی کہ اس 10 رکنی بلاک کے دائرہ کار میں فوجی مشقیں یا ہتھیاروں پر کنٹرول شامل نہیں ہے۔
ریابکوف نے یہ بھی انکار کیا کہ حال ہی میں جنوبی افریقہ میں ہونے والی بحری مشقیں “برکس ایونٹ” تھیں، اور کہا کہ جن ممبران نے حصہ لیا وہ اپنے قومی کردار میں شریک ہوئے۔ وہ 9 تا 16 جنوری کو ہونے والی “Will for Peace 2026” مشقوں کا حوالہ دے رہے تھے جن میں چین، ایران اور روس شامل تھے۔
جب پوچھا گیا کہ کیا برکس ارکان کے ٹینکروں کو حملوں سے بچا سکتا ہے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنا سکتا ہے تو ریابکوف نے کہا کہ اس بلاک کے پاس لاجسٹکس بہتر کرنے اور پابندیوں سے بچاؤ کو مضبوط کرنے کے علاوہ کوئی ایسا اختیار نہیں ہے، اور سیکیورٹی کو دوسرے ذرائع سےیقینی بنایا جانا چاہیے۔
ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
برکس 2009 میں برازیل، روس، بھارت اور چین کی طرف سے قائم کیا گیا تھا اور جنوبی افریقہ 2010 میں اس میں شامل ہوا۔ بعد ازاں مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایتھوپیا، انڈونیشیا اور ایران بھی شامل ہوئے، جس سے گروپ 11 ارکان تک پھیل گیا، اور اس کے ساتھ 10 شراکت دار ممالک بھی ہیں۔
روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان تجارت کی ترقی عالمی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، یہ اشارہ ہے کہ برکس، کسی قسم کے ’جادوئی چھڑی‘ کے بغیر بھی، دراصل مسائل کے حل میں معاون بن سکتا ہے۔
ریابکوف نے کہا کہ برکس ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر سکتا ہے اور اسے کرنا چاہیے، اور ماسکو اور بیجنگ اس ملک کے ساتھ رابطے میں ہیں اور تہران اور واشنگٹن کے مابین مذاکرات کے لیے "مناسب سیاسی ماحول" فراہم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔
ان کے بقول، "ان مذاکرات پر توجہ مبذول ہے جو ایران اپنے شراکت داروں کے ساتھ کر رہا ہے، اس کام پر جو ایران بالواسطہ طور پر — بنیادی طور پر عرب ثالثوں کے ذریعے — امریکیوں کے ساتھ کر رہا ہے،" جس کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ یہ جاری رہے گا۔
امریکہ-ایران بالواسطہ مذاکرات
امریکہ اور ایران نے عمانی ثالثی میں 6 فروری کو مسقط میں بالواسطہ مذاکرات کیے تاکہ تہران کے جوہری پروگرام پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔یہ تقریباً آٹھ ماہ کی معطلی کے خاتمے کی علامت تھے جب امریکہ نے جون 2025 میں ایران کے جوہری اداروں پر حملے کیے تھے، جو 12 دن کے ایران-اسرائیل جنگ کے دوران ہوئے تھے۔
واشنگٹن نے خطے میں اپنے عسکری وجود میں بھی خاطرخواہ اضافہ کیا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، حال ہی میں بدتر ہوتے معاشی حالات کے خلاف وسیع احتجاج کا سامنا کرنے والے ایران کو خبردار کر رہے ہیں، کہ اسے معاہدہ کرنا ہوگا۔
یورینیم کی افزودگی تنازعے کا مرکزی نکتہ ہے، جس میں امریکہ، ایران سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی روک دے اور انتہائی افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرے۔








