دنیا
2 منٹ پڑھنے
برازیل کا ایکس سے مطالبہ: گروک کی اصلاح کی جائے
سوشل میڈیا نیٹ ورک 'ایکس' اپنے چیٹ بوٹ پر جنسی تصاویر بنانا بند کرے: برازیل
برازیل کا ایکس سے مطالبہ: گروک کی اصلاح کی جائے
فائل تصویر: عکاسی میں xAI اور Grok کے لوگو دکھائے گئے ہیں۔ / Reuters
13 گھنٹے قبل

برازیل نے ایلون مسک کے سوشل میڈیا نیٹ ورک 'ایکس' سے مطالبہ کیا ہے کہ چیٹ بوٹ پر جنسی تصاویر بنانا بند کیا جائے۔

اس مطالبے کے ساتھ برازیل، اپنی مصنوعی ذہانت ایپلی کیشن میں اصلاح کے لئے  ایلون مسک نامی اس ارب پتی شخص پر  دباو ڈالنے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔

گذشتہ مہینے انڈونیشیا  گروک کو مکمل طور بند کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا۔  چیٹ بوٹ کے عورتوں اور بچوں کی کثیر تعداد میں فحش تصاویر جاری کرنے کے بعد  برطانیہ اور فرانس نے بھی  کہا  ہےکہ ہم دباؤ ڈالنا جاری رکھیں گے ۔

برازیل کے اٹارنی جنرل ، قومی ڈیٹا تحفظ ایجنسی 'ANPD' اور قومی صارف حقوق کے ادارے 'Senacon' نے کہا ہے کہ ایکس،بذریعہ گروک  بالغوں، بچوں اور نوعمروں کے جنسی یا شہوت انگیز مواد کی بلا اجازت   تیاری بند کرنے کے لئے، فوری اور مناسب اقدامات کرے ۔

ایجنسیوں نے ایکس کو حکم کی تعمیل کے لئے پانچ دن کی مہلت دی ہے۔ عدم تعمیل کی صورت  پلیٹ فارم  کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور جرمانہ کیا جائے گا۔

برازیلی حکام کے مطابق ایکس نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ  ماہ برازیل کی وارننگ کے بعد ہزاروں پوسٹیں حذف کر دی گئی اور سینکڑوں ایکس حساب بند کر دیئے گئے ہیں۔لیکن تحقیقات سے معلوم ہوا کہ Grok کے صارفین ابھی بھی جنسی مواد والی جعلی ویڈیو بنا  رہے ہیں۔  

حکام نے، عدم شفافیت کی وجہ سے،  ایکس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے کہ ایکس نے 15 جنوری کو ، حقیقی لوگوں کی بے لباس تصاویر کی اشاعت  سے روکنے سے متعلقہ اقدامات کا اعلان کیا تھا ۔ اس معاملے میں  خاص طور پر اُن ممالک میں ایسے مواد کی اشاعت بند کرنے پر زور دیا گیا تھا  جہاں یہ عمل غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔  تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ اقدامات کہاں نافذ ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ایکس اے آئی  پر، اپنی گروک اپیلی کیشن کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے، بین الاقوامی دباو میں اضافہ ہو رہاہے۔گروک کا 'سپائسی موڈ' فیچر صارفین کی ہدایات پر کسی  تصویر  کو بے لباس کر کےیا جنسی مواد میں استعمال کر کے عورتوں اور بچوں کا جعلی جنسی مواد تخلیق کر سکتا ہے۔

ڈیجیٹل نفرت کے خلاف جدوجہد کے  مرکز 'CCDH' کے مطابق گروک نےمحض  چند دنوں میں اندازاً تین ملین عورتوں  اور بچوں کی جنسی  تصاویر تیار کی ہیں۔