سابق امریکی صدر بارک اوباما نے ہفتے کو منی سوٹا میں نقل مکانی و کسٹم سکیورٹی 'ICE' کی چھاپہ کارروائیوں کی مذّمت کی اور کہا ہے کہ ان کی حرکتیں 'آمرحکومتوں' میں دیکھی جانے والی حرکتوں سے مشابہہ ہیں۔
آئی سی ای سمیت ہزاروں وفاقی ایجنٹوں نے کئی ہفتوں تک پھیلی ہوئی چھاپہ کاروائیوں کے دوران کثیر تعداد میں گرفتاریاں کی تھیں۔ہفتے کے آخر میں ختم ہونے والے ان چھاپوں اور گرفتاریوں کو ٹرمپ انتظامیہ نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف طے شدہ کاروائیاں قرار دیا ہے۔
اوباما نے پچھلے مہینے ICE ایجنٹوں کے اقدامات کو غیرقانونی قرار دیا اور ان پر تنقید کی تھی لیکن ہفتے کو برائن ٹائلر کوہن کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے اس سے آگے بڑھ کر کہا ہے کہ "وفاقی حکومت کے ایجنٹوں کا بغاوتی طرزِ عمل بہت تشویشناک اور خطرناک ہے"۔
انہوں نے کہا ہے کہ دو ہلاکت خیز فائرنگ واقعات سمیت وفاقی افسران کی کاروائیوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شروع کردہ وسیع پیمانے کے کریک ڈاؤن پر دباؤ بڑھا دیاہے۔ یہ ایسے اقدامات تھے جنہیں ماضی میں ہم نے آمرملکوں میں دیکھا ہے۔
امریکی تاریخ کے واحد سیاہ فام صدر ' اوباما' نے کہا ہے کہ انہیں ان کمیونٹیوں میں امید دکھائی دی ہےجو ان کارروائیوں کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ کے نمائندے ٹام ہومان نے جمعرات کو منی سوٹا میں اس جارحانہ امیگریشن آپریشنوں کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ ان آپریشنوں نے وسیع پیمانے پر احتجاج اور ملک گیر غصے کو جنم دیا تھا۔









