صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا ہوگا اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگلے ایک ماہ کے اندر اس کا حصول ممکن ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزيراعظم بن یامین نیتن یاہو نے احتیاطی حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ ٹرمپ شاید ایسے حالات بنا رہے ہیں جو اس معاہدے کے لیے موزوں ہوں۔
جمعرات کو ایک روز بعد جب انہوں نے نیتن یاہو کو وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی، ٹرمپ نے کہا کہ وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات سے 'اگلے ایک ماہ' میں کسی نتیجے کی امید رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے رپورٹرز سے کہاکہ ہمیں ایک معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ یہ بہت تکلیف دہ ہوگا اور میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو ۔
ٹرمپ جو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں ایک دوسرا ایئرکرافٹ کیریئر بھی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں انہوں نے پچھلے سال جولائی میں ایران کے ساتھ اسرائیل کی بارہ روزہ جنگ کے دوران تہران کے جوہری مراکز پر ان کے حکم سے کیے گئے امریکی عسکری حملوں کا ذکر کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ دیکھیں گے کہ کیا ہم ان کے ساتھ معاہدہ کر سکتے ہیں، اور اگر نہیں کر سکے تو ہمیں دوسرے متبادل کی طرف جانا پڑے گا جو کہ ان کے لیے بہت سخت ہوگا۔
نیتن یاہو جو بدھ کو واشنگٹن میں ٹرمپ سے ملے انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر ایسی بنیاد رکھ رہے ہیں جو فوجی کارروائی سے بچنے والا معاہدہ ممکن بنا سکے۔
یہ دونوں کی گزشتہ سال ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ساتویں ملاقات تھی۔
بند دروازوں کے پیچھے بات چیت کے بعد نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے عمومی شک کا اظہار کیا لیکن اگر کوئی معاہدہ طے پایا تو اس میں وہ عناصر شامل ہونے چاہئیں جو اسرائیل کے لیے بہت اہم ہیں۔'
انہوں نے کہا کہ ان عناصر میں ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا، اس کے بیلسٹک میزائلوں پر پابندیاں اور ایران کے علاقائی طرف داروں پر پابندیاں شامل ہیں۔
ٹرمپ نے بات چیت کو 'بہت اچھا اجلاس' قرار دیا لیکن کہا کہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں ہوا۔
انہوں نے نیتن یاہو کے مطالبات کی اعلانیہ تائید کرنے سے گریز کیا۔
صدر کا ماننا ہے کہ ایرانی پہلے ہی سمجھ گئے ہیں کہ وہ کس سے معاملہ کر رہے ہیں ،میرا خیال ہے کہ وہ یقیناً سمجھ گئے ہیں کہ پچھلی بار معاہدہ نہ کر کے غلطی ہوئی تھی۔










