دنیا
2 منٹ پڑھنے
میونخ کانفرنس کا آغاز،عالمی بحرانوں پر غور کا امکان
میونخ سیکیورٹی کانفرنس شروع ہو گئی ہے جس میں منتظمین کے بقول 115 سے زائد ممالک کے ہزار سے زائد شرکاء  یکجا  ہیں، اور اسے "انتہائی ہنگامی" موقع قرار دیا گیا ہے
میونخ کانفرنس کا آغاز،عالمی بحرانوں پر غور کا امکان
میونخ کانفرنس / Reuters
16 گھنٹے قبل

میونخ سیکیورٹی کانفرنس شروع ہو گئی ہے جس میں منتظمین کے بقول 115 سے زائد ممالک کے ہزار سے زائد شرکاء  یکجا  ہیں، اور اسے "انتہائی ہنگامی" موقع قرار دیا گیا ہے ۔

جرمن چانسلر فریڈرِک مرز کے افتتاحی تقریب سے خطاب کریں گے۔

مباحثے بین الاقوامی نظم اور ٹرانس اٹلانٹک اتحادوں کے مستقبل، یورپ کی اپنی دفاعی اور سیکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی کوششوں، یوکرین کی حمایت، غزہ کی تعمیر نو، ایران سے متعلق کشیدگیوں، نیز موسمیاتی اور توانائی کی حفاظت، جوہری خطرات، مصنوعی ذہانت اور تجارت و ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے ہتھیار بنانے والے استعمال پر مرکوز ہوں گے۔

تقریباً 60 سربراہانِ مملکت  کی شرکت متوقع ہے، جن میں یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی بھی شامل ہیں۔

یورپی رہنماؤں میں سے دو تہائی سے زیادہ نے اپنی شرکت کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ امریکی وفد 'اب تک کا سب سے بڑا وفد  جس میں امریکی سینیٹ کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ شامل ہے اور اسے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی قیادت حاصل ہے۔

اس کے علاوہ 50 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہ بھی شرکت کر رہے ہیں، جن میں یورپی یونین، نیٹو، جنوبی مشرقی ایشیا کے ممالک کی ایسوسی ایشن (ASEAN)، یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (OSCE)، ورلڈ بینک، عالمی تجارتی تنظیم اور کئی اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں کے سربراہ شامل ہیں۔

ملاقات سے قبل سالانہ میونخ  سیکیورٹی رپورٹ نے خبردار کیا کہ "دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو گئی ہے جو بربادی کی سیاست کا ہے اور  امریکی  قیادت میں بین الاقوامی نظام اب تباہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سیاست کو تنقید کا نشانہ بنایا جسے اس نے 'بلڈوزر' پالیسی قرار دیا اورکہا گیا کہ یہ بین الاقوامی نظام کو تباہ کر رہی  ہے ۔

رپورٹ کا استدلال تھا کہ واشنگٹن کی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور موجودہ قواعد و اداروں کو ختم کرنے کی کوششیں عالمی سطح پر بحرانوں اور تنازعات پر گہرا اثر ڈالیں گی ۔