امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مسائل کو بذریعہ مذاکرات حل کرنے کو ترجیح دیں گے۔
روبیو نے بروز ہفتہ بلومبرگ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ "صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی ترجیح ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا ہے۔ یہ بہت مشکل ہے لیکن ہم کوشش کریں گےاور ہم اسی کوشش میں مصروف ہیں"۔
روبیونے ممالک کے مابین تعامل کو ضروری قرار دیا اور کہا ہے کہ "میں ایک ایسے صدر کے ماتحت کام کر رہا ہوں جو کسی سے بھی ملاقات کرنے کو تیار ہے۔ لہٰذا میں نہایت اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر آیت اللہ علی خامنہ ای کل صدر ٹرمپ سے ملاقات کی خواہش ظاہرکریں تو صدر ان سے ملاقات کریں گے۔ اس لئے نہیں کہ وہ آیت اللہ سے متفق ہیں بلکہ اس لئے کہ ان کے نزدیک دنیا میں مسائل حل کرنے کا یہی طریقہ ہے"۔
دوسرے امریکی طیارہ بردار جہاز کی مشرق وسطیٰ میں تعیناتی سے متعلق سوال کے جواب میں روبیو نے کہا ہےکہ ایران کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا امریکہ، یورپ، خطے اور عالمی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہے۔ ایران کو کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دی جائے گی" ۔
روبیو نے کہا ہے کہ "یقیناً ہم علاقے میں فوجیں موجود رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ایران نے خطے میں امریکی موجودگی پر حملے کی خواہش اور صلاحیت ظاہر کی ہے۔ ہمارے علاقائی اتحادیوں کی وجہ سے واشنگٹن کے اڈے یہاں موجود ہیں"۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ "ایران، ماضی میں ہم پر یا ہمارے اڈوں پر حملے کے رجحان کا اظہار کر چُکا ہے۔لہٰذا امریکہ کو خطے میں "مناسب جنگی صلاحیت" موجود رکھنی چاہیے تاکہ ایران کو کسی غلطی ، ہم پر چڑھائی یا پھر کسی اور بڑے واقعے سے روکے رکھا جائے"۔










