نیویارک ٹائمز کے مطابق، یو ایس ایس جیرلڈ- آر- فورڈ اور اس کے محافظ جہاز جو اس وقت کیریبین میں ہیں مشرق وسطٰی بھیجے جائیں گے ۔
چار امریکی عہدے داروں نےنام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار سے بات کی اور کہا کہ جہاز کے عملے کو جمعرات کو اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔
فورڈ اسٹرائیک گروپ خلیج میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کے ساتھ شامل ہوگا تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر بڑھائی گئی دباؤ مہم کی حمایت کی جا سکے ۔
ٹرمپ نے پہلے خطے میں ایک اور کیریئر بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا البتہ جہاز کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔
امریکی صدر نے پچھلے ماہ خبردار کیا تھا کہ ایک وسیع بحری بیڑا ایران کی طرف رواں دواں ہے، اور تہران سے کہا تھا کہ وہ معاہدہ کرے ورنہ اگلا حملہ بہت زیادہ سنگین ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی طرف بڑھتی یہ فوج جس کی قیادت امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کر رہا ہے، اس سے پہلے وینیزویلا بھیجی گئی قوت سے بڑی ہے اور انہوں نے اسے 'تیار، رضامند اور قابل' قرار دیا کہ ضرورت پڑنے پر یہ تیزی اور تشدد کے ساتھ اپنا مشن پورا کر سکتی ہے۔
یو ایس ایس جرلڈ آر فورڈ 24 جون کو نورفوک، ورجینیا سے روانہ ہوا تھا یہ تعیناتی اصل میں یورپی دورے کے طور پر منصوبہ بند تھی مگر وینیزویلا پر ٹرمپ کی دباؤ مہم کی حمایت کے لیے اسے کیریبین کی طرف موڑا گیا۔
فورڈ کے طیارے 3 جنوری کو وینیزویلا میں کی گئی کارروائی میں شامل تھے جس کے نتیجے میں صدر نیکولس مادورو کی اغوا کا واقعہ پیش آیا۔
جو اسٹرائیک گروپ ابتدا میں مارچ کے اوائل میں واپس آنے کے شیڈول میں تھا، اس کی تعیناتی اب بڑھا دی گئی ہے۔





