سیاست
3 منٹ پڑھنے
عالمی ممالک کے فلسطین کو تسلیم کرنے کے دوران مائیکروفون بند
اقوام متحدہ میں مائیکروفون کی خرابی کی ایک سیریز نے، ترکیہ ، کینیڈا اور انڈونیشیا کے سربراہان سمیت، متعدد عالمی رہنماؤں کی تقریروں میں خلل ڈال دیا۔
عالمی ممالک کے فلسطین کو تسلیم کرنے کے دوران مائیکروفون بند
اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں فلسطین پر منعقدہ ایک اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کی مائیکروفون بند ہو گئی۔ / AP

اقوام متحدہ جنرل کمیٹی اجلاس کے دوران مائیکروفون بار بار بند ہوتے رہے۔ یہ واقعات غزہ میں نسل کشی اور فلسطینی ریاست کے موضوع پر حساس بحث کے دوران پیش آئے۔

آج بروز منگل  انڈونیشیا کے صدر پروبواو سبیانتو کی تقریر ایک ایسے وقت پر  منقطع ہو گئی جب وہ غزہ میں امن فوج بھیجنے کے منصوبے پر بات کر رہے تھے۔ ان کا مائیکروفون خاموش ہو گیا جس کی وجہ سے مترجم کو  بات جاری رکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ چند سیکنڈکے بعد آڈیو بحال ہو گئی لیکن یہ خلل ایک اہم لمحے پر آیا تھا۔

اس سے چند گھنٹے قبل ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو بھی ، اسمبلی سے خطاب کے دوران، اسی طرح کی خرابی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ خطاب میں انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی طرف سے جاری نسل کشی کی مذّمت کی اور فلسطینی ریاست کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔  لیکن مائیکروفون بند ہو گیا۔ اگرچہ مختصر وقت میں یہ خرابی دُور ہو گئی لیکن  اس سے ہال میں کچھ دیر کے لیے الجھن پیدا ہوئی۔

سب سے ڈرامائی خرابی پیر کے روز پیش آئی جب کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے فلسطین کی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ " کینیڈا، فلسطین کو بحیثیت  ریاست  تسلیم کرتا ہے"۔ ان کے اس اعلان پر مندوبین نے تالیاں بجائیں، لیکن چند لمحوں بعد ان کا مائیکروفون اچانک بند ہو گیا۔

تالیاں بجنے کے باوجود، آواز کی اچانک خرابی نے بعض مبصرین کے درمیان خرابی کے وقت کے بارے میں قیاس آرائیاں پیدا کر دیں۔

اقوام متحدہ کے تکنیکی عملے نے کہا ہے کہ یہ خرابیاں جنرل اسمبلی ہال کے آلات میں مسائل کی وجہ سے ہوئی ہیں ۔حکام نے اس بات پر زور دیا  ہےکہ "جان بوجھ کر مداخلت" کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔

مائیکروفون کی خرابیوں سے بارہا منقطع ہونے والے اس اجلاس  کا ایجنڈہ فلسطین اور غزّہ تھا۔اجلاس میں فرانس، بیلجیم، مالٹا، لکسمبرگ، اور کینیڈا  سمیت کثیر تعداد ممالک  نے فلسطین کو تسلیم کیا۔ ان پیش رفتوں کو مسئلہ فلسطین کے  دو ریاستی حل کی جانب ایک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اجلاس میں  ترکیہ، انڈونیشیا، اور دیگر ممالک کے رہنماؤں نے غزہ میں نسل کشی کو روکنے، انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنانے اور ضرورت پڑنے پر امن فوج تعینات کرنے کے لیے فوری بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔پروبواو نے  کہا  ہےکہ اقوام   متحدہ امن مشن کے موضوع پر اتفاق ہونے کی صورت میں انڈونیشیا اس مشن کو  فوج فراہم کرنے پر تیار ہے ۔

مائیکروفون کی خرابیوں کے باوجود، پیغامات واضح طور پر پہنچے۔ جیسا کہ ایک مندوب نے کارنی کے بیان کے بعد کہا کہ "تسلیم کیا جانا بلند اور واضح سنا گیا، چاہے مائیکروفون نہ بھی ہو۔"

دریافت کیجیے
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
روس اور یوکرین میں کل شب کے حملوں میں متعدد افراد زخمی
جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار کردیا؛ جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
بحری خلاف ورزیاں،پاک-بھارت کا ایک دوسرے سے احتجاج
اقوام متحدہ: "امریکا کے خلاف ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے معقول دلائل موجود ہیں"
ترکیہ کا حُرکش-II ترک فضائیہ کے سپرد کیا جانے والا پہلا مقامی طیارہ ہو گا
روس اور یوکرین کے درمیان حملوں کی اطلاع