غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
غزہ: حنظلہ امدادی جہاز پر قبضہ "بحری قزاقی" ہے
ہم، غزّہ کے ناحق محاصرے کو توڑنے کی خاطر بین الاقوامی پانیوں میں محوِ سفر 'حنظلہ' بحری جہاز پر، اسرائیلی قابض فوج کے حملے کی شدید مذّمت کرتے اور اسے بحری قزاقی قرار دیتے ہیں: غزہ میڈیا آفس
غزہ: حنظلہ امدادی جہاز پر قبضہ "بحری قزاقی" ہے
The vessel departed from Syracuse, Italy, docked briefly in Gallipoli to resolve technical issues before setting sail with 21 activists on board. / AA

غزہ نے اسرائیلی فوج کی جانب سے حنظلہ امدادی جہاز پر حملے کی مذّمت کی، اسے "بحری قزاقی" قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ محصور علاقے کی جانب جانے والے انسانی امداد کے قافلوں کی حفاظت کرے۔

غزہ میڈیا آفس نے اتوار کو جاری کردہ بیان میں  کہا  ہے کہ "ہم، غزّہ پر لاگو کئے گئے ناحق محاصرے کو توڑنے کی خاطر انسانی فریضے کے دائرہ کار میں بین الاقوامی پانیوں میں محوِ سفر 'حنظلہ' بحری جہاز  پر، اسرائیلی قابض فوج کے حملے کی شدید مذّمت کرتے ہیں"۔

میڈیا آفس نے اس حملے کو "کھلی جارحیت" قرار دیا اور کہا  ہےکہ یہ "بین الاقوامی قانون اور بحری نیویگیشن اصولوں کی صریح  خلاف ورزی ہے۔"

مزید کہا گیا ہے کہ "اس حملے نے  ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ قابض طاقت قانون سے  آزاد ایک باغی قوت کے طور پر کام کرتی ہے اور ہر اس انسانی اقدام کو نشانہ بناتی ہے جو غزہ میں محصور اور بھوکے 2.4 ملین فلسطینیوں کو بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔"

میڈیا آفس نے جہاز پر موجود بین الاقوامی کارکنوں کی حفاظت کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی اور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کی جانب جانے والے انسانی قافلوں کے لیے "فوری اور سخت اقدامات" کریں تاکہ ان کی بین الاقوامی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

حنظلہ پر حملہ

ہفتے کے روز اسرائیلی افواج نے، غزّہ کی مہلک ناکہ بندی کو توڑنے کے خواہش مند ایکٹیوسٹوں  پر مشتمل بحری جہاز، 'حنظلہ' پر حملہ کر دیا ۔

ایک براہ راست نشریات میں مسلح فوجیوں کو جہاز پر چڑھتے اور کارکنوں کو ہاتھ اٹھانے کا حکم دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کچھ لمحوں بعد نشریات منقطع ہو گئیں اور جہاز کے عملے اور مسافروں کی قسمت تاحال نامعلوم ہے۔

اسرائیلی بحری افواج کے غزہ کے ساحل کے قریب پہنچنے پر جہاز نے مدد کی ایک ہنگامی اپیل جاری کی تھی۔

غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لئے قائم بین الاقوامی کمیٹی نےکہا ہے کہ  حنظلہ ،غزہ سے  130 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچنے والے سابقہ امدادی بحری جہاز ' میڈلین' سے 110 کلومیٹر زیادہ آگے تک گیا ہے۔

یہ جہاز 13 جولائی کو سیراکوز، اٹلی سے روانہ ہوا ۔ 15 جولائی کو اس نے  تکنیکی مسائل حل کرنے کے لیے گلیپولی میں مختصر قیام کیا اور  20 جولائی کو 21 کارکنوں کے ساتھ روانہ ہو گیا۔

اسرائیلی ساختہ قحط

غزہ شدید قحط کا سامنا کر رہا ہے، جو محصور علاقے میں اسرائیلی نسل کشی کے باعث مزید سنگین ہو گیا ہے۔

2 مارچ سے سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور خوراک و ادویات پر پابندی نے بچوں اور مریضوں میں وسیع پیمانے پر بھوک اور شدید غذائی قلت پیدا کر دی ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں تقریباً 60,000 فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق، تقریباً 11,000 فلسطینیوں کے تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد غزہ کے حکام کی رپورٹ کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے، اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ تقریباً 200,000 ہو سکتی ہے۔

نسل کشی کے دوران، اسرائیل نے محصور علاقے کے بیشتر حصے کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کی تقریباً تمام آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔

دریافت کیجیے
وزیر فیدان: "ہم نے یوکرین کا ایک بہت ہی سود مند دورہ کیا ہے"
اسرائیل:فلسطینی قیدیوں کی حامل جیلوں کے گرد مگر مچھ چھوڑنے پر غور
امریکہ۔ ایران کشیدگی اور بحرِ احمر میں آمدورفت کے بند ہونے کے خطرات سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ
یوگنڈا میں اسکول بس حادثے میں کم از کم 21 افراد لقمہ اجل
15 جولائی اقدام بغاوت کے 10 سال اور توانائی کی بدلتی پالیسیاں
فرانس میں شدید طوفان، 13,000 گھر بجلی سے محروم
یوکرین: روسی حملوں میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں
میانمار: روہینگیا مہاجرین کی کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زیادہ افراد ہلاک
امریکی فوج کیوبا کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے اختیارات پر غور کر رہی ہے: رپورٹ
امریکہ نے سعودی عرب کے ہاتھ تقریباً 2 بلین ڈالر کی اسلحہ فروخت کی منظوری دے دی
سیمی فائنل میں ارجنٹائن کی کامیابی،فائنل اسپین کے ساتھ کھیلے گا
آسٹریلیا نےڈیٹا سینٹروں اور کاپی رائٹ سے متعلقہ اے آئی قوانین کا اعلان کر دیا
ملائیشیا میں کسی بھی اسرائیلی کو پایا گیا تو فوراً ملک بدر کر دیا جائے گا: انور ابراہیم
فیتو کی دفاعی صنعت میں تخریب کاری، اہم منصوبے اور حالیہ 10 برسوں میں مقامی دفاعی صنعت کی پیش رفتیں
کیوبا میں ملک گیر لوڈ شیڈنگ