چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اغوا کے بعد بیجنگ کسی بھی ملک کو "دنیا کا جج" بننے کی اجازت نہیں دے سکتا ۔
وانگ نے بروز اتوار بیجنگ میں اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار کے ساتھ ملاقات کے دوران وینزویلا میں 'آنی پیش رفتوں ' پر بات کی اور براہِ راست امریکہ کا ذکر کئے بغیر کہا ہے کہ "ہم نہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی ملک دنیا کا پولیس افسر بن سکتا ہے اور نہ ہی یہ قبول کرتے ہیں کہ کوئی قوم خود کو دنیا کا جج سمجھنا شروع کر دے"۔
وانگ نے مزید کہا ہے کہ "تمام ممالک کی خود مختاری اور سلامتی کو بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر تحفظ حاصل ہونا چاہیے"۔
مذکورہ بیانات، بروز ہفتہ آنکھوں پر پٹّی اور ہاتھوں میں ہتھکڑیوں کے ساتھ 63 سالہ مادورو کی تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد، چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی کے پہلے بیانات ہیں۔
مادورو کو نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے اور توقع ہے کہ آج بروز سوموار منشیات اسمگلنگ کے الزامات میں عدالت میں پیش ہوں گے۔
تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ، وینزویلا کا اقتدار ہاتھ میں لینے کے دعوے نے، بیجنگ اور کاراکاس کے درمیان 2023 میں طے پانے والے اور کچھ نہیں تو 50 سالہ سفارتی تعلقات کی علامت"ہر حالت میں جامع اسٹریٹجک ساجھے داری معاہدے" کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔
مادورو اور چین کے نمائندہ خصوصی برائے امورِ لاطینی امریکہ و کیریبین 'کیو شیاوکی' کے درمیان، مادورو کے گرفتاری سے چند گھنٹے قبل ،طے پانے والی ملاقات کے بارے میں چین کے ایک سرکاری اہلکار نے کہا ہے کہ"یہ چین کے لئے ایک بڑا دھچکہ تھا ۔ ہم ، وینزویلا کے ساتھ ایک قابلِ اعتماد دوست کے طور پر دکھائی دینا چاہتے تھے"۔
واضح رہے کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت 'چین' نے 2017 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے پابندیاں سخت کیے جانے کے بعد سے وینیزویلا کو اقتصادی سہارا فراہم کیا اور دستیاب تازہ ترین سالانہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں چین نے وینزویلا سےتقریباً 1.6 بلین ڈالر مالیت کی درآمدات کیں۔
امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ نامی تھنک ٹینک کے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق چین کی وینزویلا سے کی گئی درآمدات کا تقریباً نصف حصّہ خام تیل پر مشتمل تھا۔ چین کے سرکاری تیل کے بڑے اداروں نے بھی 2018 تک وینزویلا میں تقریباً 4.6 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔











