دنیا
3 منٹ پڑھنے
لبنان: ہتھیاروں کو ریاستی اختیار تک محدود کرنے کا منصوبہ پانچ مراحل پر مشتمل ہے
پہلا مرحلہ جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی کے جنوبی علاقے پر لاگو ہوگا اور دوسرا مرحلہ دریائے اوالی کے جنوبی علاقے کا احاطہ کرے گا: کمال شہادہ
لبنان: ہتھیاروں کو ریاستی اختیار تک محدود کرنے کا منصوبہ پانچ مراحل پر مشتمل ہے
(فائل) جنوبی لبنان میں دیر میماس کے داخلی دروازے پر لبنان کی فوج کے اراکین کھڑے ہیں۔ / Reuters

 لبنان کے  وزیر برائے امورِ مہاجرت 'کمال شہادہ'  نے کہا  ہےکہ ہتھیاروں کو ریاستی اختیار تک محدود کرنے کا فوجی منصوبہ پانچ مراحل پر مشتمل ہے۔

کمال شہادہ نے ہفتے کے روز سعودی عرب کے ٹی وی چینل الحدث کے لئے  ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ "تمام ہتھیاروں کو ریاستی اختیار کے تحت رکھنے کی ضرورت پر ایک وسیع قومی اتفاق پایا جاتا  ہے"۔

لبنانی حکومت نے جمعہ کے روز ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری کے لیے فوج کے منصوبے کی منظوری دی اور  اس کے مندرجات  اور مشاورت کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

شہادہ نے کہا ہے کہ "قوم کی ڈھال" نامی یہ منصوبہ پانچ مربوط مراحل پر مشتمل ہے۔

پہلا مرحلہ جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی کے جنوبی علاقے پر لاگو ہوگااور دوسرا مرحلہ دریائے اوالی کے جنوبی علاقے کا احاطہ کرے گا۔

دریائے اوالی، اسرائیلی سرحد سے 29 کلو میٹر کی مسافت پر بہتے دریائے لیتانی سے 30 کلومیٹر شمال میں صیدا شہر کے شمال میں واقع ہے ۔

شہادہ نے باقی مراحل کی تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم اتنا کہا   ہےکہ اس منصوبے میں ہدف کے علاقوں میں چھاپوں جیسی کاروائیاں  شامل ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ "پہلے مرحلے کے لیے ایک واضح ٹائم ٹیبل مقرر کیا گیا ہے اور فوج کے تمام وسائل اس وقت دریائے لیطانی کے جنوب پر مرکوز ہیں۔ لبنان کی فوجی ضروریات اتحادی ممالک کو بتا دی گئی ہیں اور واشنگٹن نے فوج کے ساتھ تعاون میں اضافہ کر دیا ہے"۔

ہفتے کے روز، لبنان کےصدر جوزف عون نے کہا تھا کہ فوج نے دریائے لیطانی کے جنوب میں 85 فیصد سے زیادہ علاقے میں پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔

5 اگست کو حکومت نے حزب اللہ کے ہتھیاروں سمیت تمام ہتھیاروں  کو ریاست تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا  اور فوج کو 2025 کے آخر تک اس منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی تھی۔

حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے بارہا کہا ہے کہ جب تک اسرائیل لبنانی علاقے سے دستبردار نہیں ہوتا، اپنے حملے بند نہیں کرتا، قیدیوں کو رہا نہیں کرتا اور علاقے کی تعمیر نو کا آغاز نہیں ہوتا گروپ  ہتھیار نہیں چھوڑے گا۔

8 اکتوبر 2023 کو اسرائیل نے لبنان پر فوجی حملے شروع کیے جو ستمبر 2024 تک مکمل جنگ میں تبدیل ہو گئے۔ اس جنگ  میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ سمیت  4,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جنگ میں زخمی ہونے والوں کی تعداد  17,000 سے زیادہ تھی۔

گذ ماہِ شتہ نومبر میں جنگ بندی ہوئی لیکن اسرائیلی فوج ، اس دعوے کے ساتھ کہ وہ حزب اللہ کو نشانہ بنا رہی ہے،تقریباً روزانہ جنوبی لبنان پر حملے کر رہی ہے۔

جنگ بندی کے تحت، اسرائیل کو 26 جنوری تک جنوبی لبنان سے مکمل طور پر دستبردار ہونا تھا، لیکن تل ابیب کے انکار کے بعد اس ڈیڈ لائن کو 18 فروری تک بڑھا دیا گیا تھا۔

اسرائیل اب بھی پانچ سرحدی چوکیوں پر فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

دریافت کیجیے
روسی میزائل اور ڈراون حملوں میں کیف کے قرب و جوار میں 14 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
فلپائن میں 6.3 کی شدّت کا زلزلہ
چین کے شاانشی صوبے میں شدید بارشوں کے باعث ایک لاکھ 15 ہزار لوگوں کی نقل مکانی
ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر معاہدے کے قریب ہیں: رپورٹ
گوئٹے مالا: فیوگو آتش فشاں میں دھماکے
روسی علاقوں پر یوکرینی ڈراونز کی بارش، ماسکو پر حملے میں پانچ افراد ہلاک
نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی یا ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلاء کو مسترد کرتے ہیں: رپورٹ
امریکہ: 65,000 سے زیادہ شہری اپنے گھروں سے نکال گئے
شمالی کوریا: امریکہ اور اس کے اتحادی ایشیا-پیسیفک میں 'نئے سیکیورٹی بحران' کو ہوا دے رہے ہیں
ترکیہ خفیہ سروس کے چیف کی غزہ امن منصوبے پر بحث کرنے کے لیے حماس کے رہنما سے ملاقات
اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں جولائی میں 2,256 حملے کیے
آسٹریلیا: ایچ فائیو برڈ فلو کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر پرندے ہلاک
ایران: عمان کے ساتھ مذاکرات آبنائے ہرمز  سے بحری آمدروفت کے موضوع پر مرکوز ہیں
اسد اقتدار کا خاتمہ شام سمیت خطے کےلیے ناگزیر تھا: احمد الشراع
یوکرین اور روس کے مابین حملوں میں شدت آگئی،متعدد ہلاکتیں