برازیل نے اپنے مشہور 'سُپر فوڈ' پھل 'اسائی بیری' کو قومی پھل اعلان کر کے اس پھل پر برازیل کی ملکیت کو دستاویزی شکل دے دی ہے۔
اسائی صدیوں سے امازون کے علاقے کی ایک نمکین بنیادی خوراک رہی ہے۔ اسے مچھلی اور مانیوک کے آٹے کے ساتھ معجون کی شکل دے کر کھایا جاتا ہے۔
اس گہرے جامنی رنگ کی بیری نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کی۔ بیری کو عموماً گرانولا میں اور میٹھے پکوانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پھل کو اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور خصوصیات کے طور پر مارکیٹ کیا گیا تھا۔
اسائی کے فعال اجزاء نے دنیا بھر کی خوراک اور کاسمیٹکس کمپنیوں کو متوجہ کیا۔ایک جاپانی کمپنی نے 2003 میں 'اسائی' نام کے استعمال کو ٹریڈ مارک بنا لیا تھا۔ برازیل کو اس رجسٹریشن کو منسوخ کرنے میں چار سال لگے۔
ایسے واقعات نے اسائی کو قومی پھل قرار دینے سے متعلقہ قانون کی منظوری کو تحریک دی۔ قانونی بِل پہلی بار 2011 میں پیش کیا گیا اور رواں مہینے کے آغاز میں بِل پر دستخط کیے گئے تھے۔
برازیل وزارت زراعت کی 'اے ایف پی' کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسائی کی کاشت امازون کے ہزاروں خاندانوں کے لیے ذریعہ آمدنی ہے اور حالیہ قانون نے اس پھل کو 'اصل برازیلی جنس' کا درجہ دے دیا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہے اور امازون کے مقامی پھلوں کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کے پہلو کو نمایاں کرنے کے لیے منظور کیا گیا ہے۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برازیل ان چند ممالک میں شامل ہے جو 'حیاتیاتی قزاقی' نامی مشہور مسئلے پر تشویش کا سامنا کر رہے ہیں ۔یعنی جن اجازت لئے بغیر یا فائدہ بانٹے بغیر ان کے حیاتیاتی وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔












