وینزویلا پر امریکی فوجی حملوں کے بعد دنیا بھر سے ردِ عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
لاطینی امریکہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی حکومتوں نے حملوں کو خود مختاری کی خلاف ورزی، علاقائی عدم استحکام کے احتمال اور وسیع تر تنازعے کے خطرات جیسے موضوعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بعض ممالک نے احتیاط کی اور بعض نے سفارتی ثالثی کی اپیل کی ہے۔
یہ حملے کئی ماہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد کئے گئے ہیں۔ کشیدگی، امریکہ کے مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگانے سے شروع ہوئی تھی۔ مادورو نے ان الزامات کی تردید کی اور مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔
کولمبیا
کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے امریکی فضائی حملوں کے بعد وینیزویلا کی سرحد پر فوجیں متعین کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پیٹرو نے امریکی اقدامات کو لاطینی امریکہ کی 'خود مختاری پر حملہ' قرار دیا اور خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات انسانی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں بائیں بازو کے رہنما 'پیٹرو' نے مذاکرات کے ذریعے حل کی حمایت کی اور وینیزویلا کی سرحد کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کا حکم دینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم قریبی حلیف ہونے کے باوجود پیٹرو نے مادورو کی گرفتاری پر کوئی بیان نہیں دیا ۔
اس سے پہلے پیٹرو نے، امریکی کارروائیوں کی بین الاقوامی قانونی حیثیت کے جائزے کے لئے، آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس (OAS) اور اقوامِ متحدہ کا فوری اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی تھی ۔
روس
روس نے بھی وینیزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کی مذمت کی اور کہا ہے کہ اس حملے کے لیے کوئی قابلِ قبول جواز موجود نہیں ہے۔ حملے سے نظریاتی دشمنی سفارت کاری پر غالب آ گئی ہے۔
روس وزارتِ خارجہ نے موضوع سے متعلق جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "آج صبح، امریکہ نے وینیزویلا کے خلاف مسلح جارحیت کی ہے۔ یہ کاروائی نہایت درجے تشویش کا باعث اور قابلِ مذمت ہے"۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کو درست ثابت کرنے کے لیے گھڑے گئے بہانے ناقابلِ قبول ہیں۔ حملوں کے ساتھ نظریاتی دشمنی سفارت کاری پر غالب آ گئی ہے"۔
بیان میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا نام لئے بغیر کہا گیا ہے کہ "ہم وینزویلا کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں"۔
ایران
ایران نے اس حملے کو وینزویلا کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی واضح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایران وزارتِ خارجہ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ " امریکہ کا وینزویلا پر فوجی حملہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی قواعد، بالخصوص چارٹر کی، طاقت کے استعمال پر پابندی سے متعلقہ، شق نمبر 2 کے پیراگراف نمبر 4 کی واضح خلاف ورزی ہے"۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی جارحیت قابلِ مذّمت ہے۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کو قانون، امن اور بین الاقوامی سلامتی کے اصولوں کے تحت غیر قانونی اقدامات کو روکنا اور ایسی کوششوں کی فوری اور سخت مذمت کرنا چاہیے ۔
وزارتِ خارجہ نے وینزویلا کے حقِ خود ارادیت، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے فطری حقوق کو بھی دہرایا اور اقوامِ متحدہ خصوصاً سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس 'غیر قانونی امریکی جارحیت' کو روکے اور اس میں مّلوث افراد کا احتساب کرے۔
بیلجیم
بیلجیم کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہےکہ بروکسل وینزویلا کی صورتحال پر بغور نگاہ رکھے ہوئے ہے اور اس خطے میں اپنے شہریوں کی حفاظت ہماری اوّلین ترجیح ہے۔
میکسیم پریوو نےسوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "بیلجیئم کا،وینزویلا امور کی نگران، بوگوٹا سفارت خانہ اور برسلز میں ہمارا شعبہ مکمل حاضر حالت میں ہے"۔
میکسیم نے کہا ہے کہ "ہم اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کی حالت میں ہیں اور حالات پر بغور نگاہ رکھے ہوئے ہیں"۔
اٹلی
اٹلی کی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی نے کہا ہے کہ"ہم، وینزویلا کی صورتحال پر قریبی نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور خاص طور پر ملک میں موجود اطالوی شہریوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔
میلونی نے کہا ہے کہ وہ اٹلی کے وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
تقریباً 160000 اطالوی اس وقت وینیزویلا میں مقیم ہیں جن میں سے زیادہ تر کے پاس دوہری شہریت ہے۔
تاجانی نے کہا کہ روم انتظامیہ اور اس کا کاراکاس سفارت خانہ، ملک میں کسی بھی قسم کی پیش رفت پر اور خاص طور پر وہاں مقیم اطالوی شہریوں کی صورتحال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور وزارتِ خارجہ کا بحران یونٹ فعال کر دیا گیا ہے۔
کیوبا
کیوبا کے رہنماؤں نے بھی امریکی فوجی حملوں کی مخالفت کی ہے۔
کیوبا کے صدر میگوئل دیاز-کینیل نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ" کیوبا، وینزویلا پر امریکہ کے ارتکابِ ’’جُرم‘‘ نوعیت کے، حملوں پر احتجاج کرتا اور بین الاقوامی برادری سے فوری ردِعمل کا مطالبہ کرتا ہے"۔
دیاز نے کہا ہے کہ" ہمارے خطّے پر ' وحشیانہ حملہ' کیا گیا ہے۔ یہ حملہ وینزویلا کے بہادر عوام اور لاطینی امریکہ کے خلاف ریاستی دہشت گردی ہے"۔
سپین
اسپین نے امریکہ اور وینزویلا کے درمیان بحران میں ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جاری کردہ بیان میں کشیدگی کم کرنے اور اعتدال سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ اسپین نے وینزویلا میں 28 جولائی 2024 کےاور مادورو کی فتح کا اعلان کرنے والے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ وینزویلا حزبِ اختلاف نے مادورو کو چیلنج کیا تھا اور حزبِ اختلاف کےصدارتی امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز یوریا نے سکیورٹی خدشات کے باعث میڈریڈ میں سیاسی پناہ لے لی تھی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسپین نے سیاسی وجوہات کی بناء پر اپنا وطن چھوڑنے والے لاکھوں وینزویلین شہریوں کو قبول کیا ہے اور قبول کرنا جاری رکھے گا۔ علاوہ ازیں ہم ، ملک میں ایک جمہوری، مذاکرہ شدہ اور پُرامن ،حل کی تلاش میں مدد کے لیے بھی تیار ہیں۔











