وینزویلا کے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے پیر کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "صدر نکولس مادورو نے، فوجی مداخلت کی صورت میں انہیں وسیع تر سکیورٹی اختیارات دینے پر مبنی، ایک فرمان پر دستخط کر دیئے ہیں "۔
یہ فرمان مادورو کو، ملک بھر میں مسلح افواج کو متحرک کرنے کا اور فوج کو عوامی خدمات اور پیٹرول کی صنعت پر کنٹرول کا اختیار دینے پر مبنی ہے۔
روڈریگز نے سفارت کاروں کو فراہم کردہ معلومات میں کہا ہے کہ مادورو کے، فرمان کو غور کے لئے پیش کرنے کا اعلان کرنےسے چند دن بعد فرمان کو منظور کر لیا گیا ہے ۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کب نافذ العمل ہوگا۔
وینزویلا آئین کے تحت، مذکورہ اختیارات 90 روزہ ہوں گے اور ان کی مدّت میں مزید 90 دن کا اضافہ کیا جا سکے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے، خطے میں منشیات کی اسمگلنگ سے مقابلے کے دعوے کے ساتھ، کیریبین میں جنگی جہازوں کا ایک بیڑا تعینات کر دیا ہے ۔
مادورو حکومت نے واشنگٹن کو ،وینزویلا میں اقتدار گرانے کی سازش میں ملّوث ہونے کا، قصوروار ٹھہرایا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں امریکی فوج نے، وینزویلا سے منشیات لے جانے کے دعوے کے ساتھ، کئی کشتیوں پر حملہ کیا اور ان پر سوار افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔
کچھ بین الاقوامی مبصرین نے ان کاروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے۔
روڈریگز نے، امریکہ کے وزیر خارجہ مارکوروبیو کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ"جو کچھ امریکی حکومت اور اس کا جنگجو وینزویلا کے خلاف کر رہے ہیں وہ ایک خطرہ ہے"۔
امریکہ وزارتِ خارجہ نے بیان پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
امریکہ حکومت کے مادورو حکومت پر بدعنوانی، جبر اور منشیات کی اسمگلنگ کا الزام لگانے کے بعد مادرو کے اختیارات کو وسیع کرنے پر مبنی یہ فرمان کاراکاس اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو اجاگر کررہا ہے ۔
وینزویلا کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی مشقیں دھمکی آمیز ہیں اور علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
مادورو، جنہیں کئی سالوں سے امریکی پابندیوں اور سیاسی تنہائی کا سامنا ہے، بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان کی حکومت کو گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مادورو حکومت کا کہنا ہے کہ وسیع اختیارات وینزویلا کی خودمختاری کے دفاع کے لیے ضروری ہیں۔









