سیاست
2 منٹ پڑھنے
جاپان کا اسرائیل کو دو ریاستوں کے حل کو روکنے کی صورت میں 'نئے اقدامات' کا انتباہ
جاپانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ فلسطین کو تسلیم کرنا 'کیا' کا معاملہ نہیں بلکہ 'کب' کا معاملہ ہے،
جاپان کا اسرائیل کو دو ریاستوں کے حل کو روکنے کی صورت میں 'نئے اقدامات' کا انتباہ
فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل پر سربراہان مملکت کے اجلاس کے دوران جاپانی وزیر خارجہ ایوا یا تاکشی کا خطاب۔ / Reuters
23 ستمبر 2025

جاپان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل ایسے اقدامات کرتا ہے جو فلسطین میں دو ریاستی حل کے راستے میں  رکاوٹ ڈالیں تو وہ "نئے اقدامات اور ردعمل" پر غور کرے گا۔

اقوام متحدہ کے نیویارک میں فلسطین پر منعقدہ کانفرنس میں جاپان کے وزیر خارجہ تاکیشی ایوایا نے کہا، "جاپان فلسطینی عوام کی اپنی آزاد ریاست قائم کرنے کی خواہشات کی  بھر پور طریقے سے  حمایت کرتا ہے۔"

انہوں نے زور دیا کہ ٹوکیو طویل عرصے سے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے اور کہا، "میرے ملک کے لیے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا  'کیا'  پر نہیں بلکہ 'کب' پر مبنی  ہے۔"

جاپان نے اب تک فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی اپیلوں کی مزاحمت کی ہے، حالانکہ حالیہ ہفتوں میں آسٹریلیا، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، بیلجیم اور دیگر ممالک نے  اسےتسلیم کر لیا ہے۔

اہم موڑ

ایوایا نے کہا، "غزہ میں  شدید انسانی بحران ، مغربی کنارے میں آبادکاری کی سرگرمیوں میں توسیع اور الحاق کی طرف قدم ہر گز ناقابل قبول ہیں۔"

انہوں نے کہا، "جاپان ان اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہے اور اسرائیل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوراً ان یکطرفہ اقدامات کو بند کرے۔"

انہوں نے خبردار کیا کہ صورتحال "ایک سنگین اور تشویشناک موڑ پر پہنچ چکی ہے جو دو ریاستی حل کی بنیادوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔"

ایوایا نے مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے جاپان کی "ٹھوس شراکت دار " کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹوکیو "زیادہ سنجیدگی کے ساتھ جامع غور و فکر جاری رکھے گا" ۔  انہوں نے  اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کو " ، اسرائیل کے ساتھ امن  کے ماحول میں  رہتے ہوئے" اپنے پائیدار وجود  کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

گزشتہ جولائی میں، جاپان نے پہلی بارت  مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث چار اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

یہ کانفرنس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے آغاز سے ایک دن پہلے  اور اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کی طر ف سے  اسرائیل کے  غزہ میں با ضابطہ طور پر  نسل کشی کے مرتکب ہونے  کی  رپورٹ جاری کرنے کے بعد   منعقد ہوئی ہے۔