ملک کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے YPG دہشت گرد گروہ کو حلب سے انخلا ء کرنے دی گئی مہلت پوری ہو گئی ہے۔
دہشت گرد گروہ کو دی گئی مہلت مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے پوری ہوئی ہے تو شامی فوج نے شہر کے وسط میں YPG کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیوں کے ذریعے بڑی حد تک اشرفیہ اور بانی زید کے علاقوں پر قائم کر لیا ہے۔
شامی وزارتِ دفاع نے جمعے کی صبح جنگ بندی کا اعلان کیا اور مسلح گروہوں کو شہر سے نکلنے کے لیے چھ گھنٹے کی مہلت دی تھی۔
جمعرات کی رات کو شدت اختیار کرنے والی جھڑپیں اشرفیہ اور بانی زید میں وقفے وقفے سے صبح 3 بجے تک جاری رہیں، بعض اوقات شیخ مقصود کے علاقے کی لائنوں تک پھیل گئیں۔
وزارت نے کہا: "مسلح افراد کو صرف ہلکے ذاتی ہتھیار رکھنے کی اجازت ہو گی۔ ان کی ملک کے شمال مشرقی علاقوں کی طرف کی طرف با حفاظت منتقلی کی ذمہ داری شامی فوج کے سر ہو گی ۔"
اگر ددہشت گرد تنظیم نے حلب سے انخلا نہ کیا تو شامی افواج اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
حلب میں آپریشنز
شامی حکام کے مطابق YPG دہشت گرد تنظیم نے 6 جنوری سے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے حلب میں متعدد مقامات پر حملے کیے ہیں۔
دمشق نے اس تنظیم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مارچ کے ایک معاہدے کی تعمیل کرے اور اپنے حملے روک دے۔
شامی ایوانِ صدر نے 10 مارچ 2025 کو اعلان کیا تھا کہ YPG دہشت گرد گروپ کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں، جس میں ملک کی سرحدی یکجہتی کی تائید اور تقسیم کی کسی بھی کوشش کی تردید کی گئی۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد کے مہینوں میں YPG دہشت گرد تنظیم نے معاہدے کی شرائط پورا کرنے کی کسی کوشش کا مظاہرہ نہیں کیا۔
حملے جاری رہنے پر تو شامی فوج نے دہشت گردوں کے زیر قبضہ شیخ مقصود اور اشرفیہ کے علاقوں میں گروپ کے ٹھکانوں کے خلاف ہدفی کارروائیاں شروع کیں۔
8 دسمبر 2024 کو بشار الاسد کے 24 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد سے نئی حکومت نے ملک بھر میں سلامتی برقرار رکھنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
وائے پی جی دہشت گردوں کے حملوں میں 6 جنوری سے ابتک کم از کم نو شامی ہلاک اور 55 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔
حلب سٹی سنٹر کمیٹی نے اعلان کیا تھا کہ ایک لاکھ 42 ہزار شہریوں کو شہر کے محفوظ علاقوں کو منتقل کیا گیا ہے۔















