غّزہ جنگ
4 منٹ پڑھنے
13 ممالک کے پارلیمانی اسپیکروں کی غزہ پر اسرائیل کے حملوں کی شدید مذمت
استنبول میں فلسطین کی حمایت میں پارلیمانی گروپوں کے اجلاس میں 13 ممالک کے پارلیمانی اسپیکرز زور دار تقریریں کرتے ہوئے اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کی۔
13 ممالک کے پارلیمانی اسپیکروں کی غزہ پر اسرائیل کے حملوں کی شدید مذمت
Indonesian Parliament Speaker Puan Maharani underlined that what Palestine needs most is justice, and pointed out that parliaments must be part of the solution within the scope of their authority. / AA

جمعہ کے روز استنبول میں فلسطین کی حمایت میں پارلیمانی گروپوں کے اجلاس میں 13 ممالک کے پارلیمانی اسپیکرز نے تقریباً 18 ماہ سے جاری غزہ پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی۔

انہوں نے عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ تل ابیب کے حملے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

ملائشیائی پارلیمنٹ کے اسپیکر تان سری داتو جوہری بن عبدال نے کہا کہ ان کا ملک فلسطین کی آزادی اور خودمختاری کے لیے غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا  انہوں نے شہریوں کے قتل کی مذمت کی۔

بن عبدال نے کہا کہ فلسطین ملائیشیا کے لیے صرف خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ انسانیت، ضمیر اور شعور کا معاملہ بھی ہے۔

پاکستان کے اسپیکرِ صوبائی اسمبلی سردار ایاز صادق نے زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ ضمیر کا امتحان ہے، فلسطینی عوام سے انصاف، آزادی اور وقار چھین لیا گیا ہے۔

صادق نے نشاندہی کی کہ اسرائیل انسانی امداد کے قافلوں کو روک رہا ہے، یہ  جان بوجھ کر علاقے پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے، اور انسانی تنظیموں کے عملے کا قتل کر رہا ہے۔

انڈونیشیائی پارلیمنٹ کی اسپیکر پوان مہارانی نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کو سب سے زیادہ انصاف کی ضرورت ہے اور پارلیمنٹس کو اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے حل کا حصہ بننا چاہیے۔

مہارانی نے کہا کہ بطور پارلیمنٹیرین، ان کے پاس خاموش رہنے کی گنجائش نہیں ہے، اور ان کی ذمہ داری صرف اپنے ووٹرز کے لیے نہیں بلکہ انصاف، انسانیت اور امن کے لیے بھی ہے۔

ہسپانوی  پارلیمنٹ کے اسپیکر آرمینگل سوشیاس نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اکتوبر 2023 سے غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ "انسانیت سوز جرم" ہے۔

انہوں نے کہا، "دو ماہ کی جنگ بندی کے بعد، اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور غزہ کے لوگوں پر بمباری جاری رکھی، مزید بچوں کو قتل کیا، صحت کے مراکز تباہ کیے اور امدادی کارکنوں کو لے جانے والی ایمبولینسوں کو بموں سے ہوا میں  اڑا دیا۔ یہ قتل عام ناقابل برداشت سطح تک پہنچ چکا ہے۔"

سوشیاس نے "سزا سے مستثنیٰ" کی عالمی ثقافت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اسپین فلسطین کی ریاست اور 1967 کی سرحدوں کو تسلیم کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی اسپین کی مکمل حمایت پر بھروسہ کر سکتے ہیں اور کہا کہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون پر کھلی جارحیت کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔

آذربائیجان کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی احمدوف نے کہا کہ آذربائیجان، جس نے 30 سال تک قبضے اور نسلی صفائی کا سامنا کیا، دنیا میں کہیں بھی امتیازی سلوک، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، نسلی صفائی، قبضے اور معصوموں کے خلاف تشدد کی مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے غزہ میں انسانی بحران اور ہزاروں معصوم جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ علاقے میں خوراک، پانی اور صحت کی سہولیات کی کمی کی وجہ سے لوگ بھوک کا شکار ہو رہے ہیں۔

احمدوف نے کہا کہ غزہ کے لوگوں تک انسانی امداد کی فراہمی میں ناکامی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔

انہوں نے جنگ بندی کے قیام اور اس پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کا اظہار کیا۔

انہوں نے فلسطین کی آزادی کے لیے آذربائیجان کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ باکو میں فلسطینی سفارت خانہ 14 سال سے کام کر رہا ہے۔

احمدوف نے کہا، "یہ ضروری ہے کہ فلسطینی عوام اپنے ملک میں وقار اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزاریں ۔"

انہوں نے کہا کہ آذربائیجان اسرائیلی-فلسطینی مسئلے کے حل کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تحت دیکھتا ہے، جس میں مشرقی  القدس  کو فلسطین کا دارالحکومت اور دو ریاستی حل کو واحد قابل عمل راستہ قرار دیا گیا ہے۔

احمدوف نے مزید کہا کہ آذربائیجان، اسلامی تعاون تنظیم کے رکن کے طور پر، غزہ کے عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا واضح اعلان کرتا ہے۔

دریافت کیجیے
کینیڈا ہماری ریاست بنے بغیر تمام فوائد چاہتاہے:ٹرمپ
ہمسایہ ممالک امریکہ کا آلہ کار نہ بنیں ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا:ایران
"اسرائیل پر پابندی ختم "کولومبیا کوئلہ برآمد کرےگا
جب تک اقتدار پر ہوں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہوگا:نیتن یاہو
ایران ' نہ جنگ ، نہ امن' کی صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے:پزشکیان
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
کولمبیا میں زلزلے سے اموات کی تعداد میں اضافہ؛ ترکیہ کی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی
یوکرینی ڈراونز نے روسی علاقے ثمارا میں ایک صنعتی تنصیب اور اوزون گودام کو نشانہ بنایا
ترکیہ کی صدر ایردوان کے خلاف تبصروں پر اسرائیل کی مذمت
ایرانی فوج دفاعی نظریے سے حملہ آور نظریے کی طرف مڑ رہی ہے: فوجی ترجمان
امریکہ: چارٹر طیارے کے حادثے میں تمام 8 افراد ہلاک
روس: ماسکو ایران پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا
امریکہ: ٹریژری بانڈوں کی پیداوار ایک بار پھر بڑھ گئی