یمن صدارتی کونسل نے متحدہ عرب امارات کی تمام فوجوں کو 24 گھنٹوں کے اندر اندر یمن سے نکلنے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ طے شدہ سکیورٹی معاہدہ منسوخ کر دیا ہے ۔
یمن صدارتی کونسل نے آج بروز منگل ہنگامی حالات کا اعلان کیا اور کونسل کے زیرِ کنٹرول علاقے کی تمام سرحدی چوکیوں کو 72 گھنٹوں کے لئے داخلے کے لئے بند کر دیا ہے۔
کونسل کے سربراہ راشد العلیمی نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا گیا ہے"۔
علیمی کے جاری کردہ ایک اور فیصلے میں 90 روزہ ہنگامی حالات کا اعلان کیا گیا اور 72 گھنٹوں کے فضائی، بحری اور برّی محاصرے کے اطلاق کی اطلاع دی گئی ہے"۔
یہ بیان ، سعودی زیرِ قیادت اتحاد کی طرف سے بڑی مقدار میں اسلحے اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنائے جانے کے اعلان کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ مذکورہ گاڑیاں جنوبی عبوری کونسل (STC) کی فوج کے لیے تھیں اور المکلا بندرگاہ پر کشتیوں سے اتاری جا رہی تھیں۔
سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ میں اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اتحاد کی اجازت کے بغیر، متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے آنے والی دو کشتیاں، 27-28 دسمبر کو المکلا بندرگاہ میں داخل ہوئی ہیں ۔
متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل کا ہدف سابقہ خودمختار جنوبی یمن حکومت کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اس نے ملک بھر سے وسیع اراضی کو قبضے میں لے لیا اور حکومتی فوجوں اور اتحادیوں کو علاقوں سے نکال دیا ہے۔
دسمبر میں سرکاری فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے بعد STC نے حضرموت اور المهرة صوبوں پر کنٹرول حاصل کیا جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔
العليمي نے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں STC کی پیش قدمی کو"ناقابلِ قبول بغاوت" قرار دیا اور مقبوضہ علاقے واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔
دریں اثنا، سعودی عرب نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کویمن کی،اپنی فوجیں 24 گھنٹوں کے اندر واپس بلانے سے متعلقہ، طلب کا مثبت جواب دینا چاہیے اور کسی بھی فریق کو کسی قسم کی عسکری یا مالی مدد دینا بند کرنا چاہیے۔
سعودی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا ہےکہ متحدہ عرب امارات نے STC فورسز کو سعودی عرب کی جنوبی سرحدوں کے قریب عسکری کارروائیاں کرنے کی طرف مائل کیا ہے۔
واضح رہے کہ یمن صدارتی کونسل کی حکومت مختلف گروپوں کا اتحاد ہے۔ اس اتحاد میں STC کے ارکان بھی شامل ہیں ۔ یہ اتحاد، ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف بنایا گیا ہے۔
حوثیوں نے 2014 میں یمن کی سرکاری فوجوں کو دارالحکومت صنعاء سے نکال کربیشتر شمالی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔










