ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
ترکیہ کو غزہ کی استحکام فورس میں شامل ہونا چاہیے: امریکی سفیر
امریکی سفیر برائے ترکیہ اور شام کے خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے کہا ہے کہ ترکیہ کو غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل کیا جانا چاہیے
ترکیہ کو غزہ کی استحکام فورس میں شامل ہونا چاہیے: امریکی سفیر
ٹام بیرک / AP
11 دسمبر 2025

  امریکی سفیر برائے ترکیہ اور شام کے خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے کہا ہے کہ ترکیہ کو غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل کیا جانا چاہیے۔

 ایک اسرائیلی صحافی امیچائی اسٹین کے  ایکس پر شیئر کیے گئے بیانات میں بیرک نے کہا کہ ترکیہ کی شرکت مجوزہ  عالمی استحکام فورس (ISF) کو مضبوط کرے گی۔

بیرک نے کہا کہ ہماری تجویز یہ تھی کہ چونکہ ترکوں کے پاس خطے میں سب سے بڑی اور مؤثر بری فوج  ہےاور  وہ حماس کے ساتھ بات چیت بھی کر رہے ہیں لہذا  یہ فورس کے طور پر  کشیدگی کم کرنے کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ 10 اکتوبر کو غزہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت نافذ العمل ہوا جس نے دو سالہ اسرائیلی نسل کشی کو روک  دیا تھا۔

دوسری جانب  ترک وزیر خارجہ خاقان فدان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انقرہ امن عمل کی حمایت کے لیے  تعاون کر سکتا ہے۔

دوحہ فورم میں خطاب کرتے ہوئے فدان نے کہا کہ کئی ممالک چاہتے ہیں کہ ترکیہ اس میں شامل ہو کیونکہ یہ قیادت کا کردار ادا کر سکتا ہے اور مشن کے لیے وسیع عوامی جواز حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

فدان نے کہا کہ انقرہ انڈونیشیا، آذربائیجان، اور دیگر مسلم و عرب شراکت داروں کے ساتھ غزہ کے لیے جنگ کے بعد کے انتظامات پر تعاون کر رہا ہے۔

فدان نے زور دیا کہ ترکیہ فوجی بھیجنے کے لیے  تیارہے  البتہ  یہ شرکت تمام متعلقہ فریقین کے موقف اور اتفاق رائے پر منحصر ہوگی۔

دریافت کیجیے
ترک وزیر خارجہ کا امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد متعدد عالمی ہم منصبوں سے رابطہ
اسرائیل نے ایرانی رہبران کی بلند پایہ شخصیات، بشمول خامنہ ای اور پزشکیان کو نشانہ بنایا: حکام
ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر اقوام متحدہ کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام
خدشات کی تصویری عکاسی: امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد کے مناظر
ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل داغ دیے
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں جاری
امریکہ نے ایران میں "بڑی جنگی کارروائیاں" شروع کر دی ہیں، صدر ٹرمپ
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد دنیا بھر میں خطرے کے بادل منڈلانے لگے
اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے مقامات پر حملے
کینیڈا نے تل ابیب سے عملے کو واپس بلا لیا اور اپنے شہریوں سے ایران سے نکلنے کا انتباہ
امریکہ کی افغانستان کے خلاف پاکستانی فضائی آپریشنز کی حمایت
افغانستان کی طالبان انتظامیہ کے331 اہلکار و خوارج ہلاک
پاکستان نے افغانستان سرحد پر تناؤ کے درمیان ڈرون حملے ناکام بنا دیے