امریکی سفیر برائے ترکیہ اور شام کے خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے کہا ہے کہ ترکیہ کو غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل کیا جانا چاہیے۔
ایک اسرائیلی صحافی امیچائی اسٹین کے ایکس پر شیئر کیے گئے بیانات میں بیرک نے کہا کہ ترکیہ کی شرکت مجوزہ عالمی استحکام فورس (ISF) کو مضبوط کرے گی۔
بیرک نے کہا کہ ہماری تجویز یہ تھی کہ چونکہ ترکوں کے پاس خطے میں سب سے بڑی اور مؤثر بری فوج ہےاور وہ حماس کے ساتھ بات چیت بھی کر رہے ہیں لہذا یہ فورس کے طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ 10 اکتوبر کو غزہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت نافذ العمل ہوا جس نے دو سالہ اسرائیلی نسل کشی کو روک دیا تھا۔
دوسری جانب ترک وزیر خارجہ خاقان فدان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انقرہ امن عمل کی حمایت کے لیے تعاون کر سکتا ہے۔
دوحہ فورم میں خطاب کرتے ہوئے فدان نے کہا کہ کئی ممالک چاہتے ہیں کہ ترکیہ اس میں شامل ہو کیونکہ یہ قیادت کا کردار ادا کر سکتا ہے اور مشن کے لیے وسیع عوامی جواز حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
فدان نے کہا کہ انقرہ انڈونیشیا، آذربائیجان، اور دیگر مسلم و عرب شراکت داروں کے ساتھ غزہ کے لیے جنگ کے بعد کے انتظامات پر تعاون کر رہا ہے۔
فدان نے زور دیا کہ ترکیہ فوجی بھیجنے کے لیے تیارہے البتہ یہ شرکت تمام متعلقہ فریقین کے موقف اور اتفاق رائے پر منحصر ہوگی۔



















