سیاست
2 منٹ پڑھنے
طالبان امریکہ کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت
"دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے، شہریوں سے متعلق مسائل اور افغانستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پر جامع بات چیت کی گئی۔"
طالبان امریکہ کے درمیان  تعلقات کو معمول پر لانے  اور قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت
امیر خان متقی، بائیں جانب، طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ، امریکی خصوصی نمائندہ برائے قیدی امور، ایڈم بوہلر سے ملاقات کرتے ہوئے۔ / AP

طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے افغانستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالے سے ایک ملاقات میں تبادلہ خیال کیا، جو زیادہ تر قیدیوں کے تبادلے پر مرکوز تھی۔

طالبان کے بیان کے مطابق، ان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ٹرمپ انتظامیہ کے یرغمالیوں کے امور کے خصوصی ایلچی ایڈم بوہلر اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی۔ طالبان نے اس ملاقات کی تصاویر بھی جاری کیں۔

بیان میں کہا گیا کہ "دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے، شہریوں سے متعلق مسائل اور افغانستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پر جامع بات چیت کی گئی۔" تاہم، بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ملاقات کہاں یا کب ہوئی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی وفد نے گزشتہ ماہ کے آخر میں مشرقی افغانستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے پر تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

قیدیوں کا تبادلہ

دونوں فریقین نے اہم معاملات پر رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا، خاص طور پر ان قیدیوں کے حوالے سے جو امریکہ اور افغانستان میں زیر حراست ہیں۔

افغانستان کے نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر کے دفتر نے اس  ملاقات کے بعد کہا کہ "ایڈم بوہلر نے افغانستان اور امریکہ کے درمیان زیر حراست شہریوں کے مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک قیدیوں کا تبادلہ کریں گے۔"

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تبادلے کی تصدیق کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ بوہلر کابل گئے تھے تاکہ "ممکنہ اقدامات  کا جائزہ لیا جا سکے۔"

روبیو نے مشرق وسطیٰ کے دورے پر جاتے ہوئے صحافیوں کو بتایا، "ہمارے خصوصی ایلچی غیر قانونی طور پر زیر حراست افراد کے حوالے سے کافی عرصے سے بات چیت کر رہے ہیں۔"

"ظاہر ہے، کسی بھی تبادلے یا معاہدے کا فیصلہ صدر کریں گے، لیکن ہم یقینی طور پر چاہتے ہیں کہ کوئی بھی امریکی یا کوئی بھی شخص وہاں غیر قانونی طور پر حراست میں نہ رہے ۔ اور وہ اسی لیے وہ وہاں گئے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ عمل کیسا ہو سکتا ہے۔"

 

دریافت کیجیے
فیتو کی دفاعی صنعت میں تخریب کاری، اہم منصوبے اور حالیہ 10 برسوں میں مقامی دفاعی صنعت کی پیش رفتیں
کیوبا میں ملک گیر لوڈ شیڈنگ
15 جولائی ایک اہم تاریخی موڑ ہے: یلماز
یوکرین: تجارتی کشتیوں پر روسی حملوں میں 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں
امریکی سینٹ نے دفاعی بل مسترد کر دیا
15 جولائی کی رات کے حالات، اقدامِ بغاوت کے اہم اور فیصلہ کُن موڑ اور ملّت کی بے مثال مزاحمت
ایران: حادثے کے بعد بحری جہاز کے 23 افراد کو بچا لیا گیا
ترکیہ نے اسکولوں کو سوشل میڈیا سے طالب علموں کی تصاویر ہٹانے کا حکم دے دیا
چین، 'باوی' طوفان کی لپیٹ میں
اسرائیل نے مغربی کنارے میں نئی غیر قانونی آبادیوں کے لئے 2.3 بلین ڈالر کا معاہدہ کر لیا
رفائیل فیتو کی تقرری،شمالی قبرص کی مذمت
غزہ کی تباہی دل کو بھاتی ہے:اسرائیلی وزیر
اسرائیلی افواج نے جنگ بندی کے باوجود لبنان میں گھروں کو آگ لگا دی
ترک خفیہ ایجنسی کا کامیاب  آپریشن، یلو بلیٹن پر مطلوب دہشتگرد گرفتار
فیتو کا خفیہ  بائی لاک مواصلاتی نظام ،مزید تفصیلات منظر عام پر