یورپی یونین کے رہنماؤں نے یوکرین کے ساتھ دفاعی تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا اور خبردار کیا ہے کہ روس کے حملے براعظم کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہےکہ بلاک کا اگلا اجلاس 23-24 اکتوبر کو ہوگا اور یہ "فیصلے کا دن" ہوگا۔
کوسٹا نے صحافیوں کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "دو ہفتوں میں یورپی کمیشن 2030 کی دفاعی تیاری کا روڈ میپ پیش کرے گا اور تین ہفتوں میں یورپی کونسل دوبارہ ملاقات کرے گی اور یہ فیصلہ کن وقت ہوگا۔"
ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کیف کے لیے مزید حمایت کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا ہے کہ “روس ہمیں دھمکا رہا ہے، ہمیں آزما رہا ہےلیکن ہم باز نہیں آئیں گے" ۔
انہوں نے کہا ہے کہ "سب سے پہلے، ہمیں یوکرین کے لیے اپنی مالی مدد کو بڑھانا ہوگا۔ اب سب جانتے ہیں کہ کیا داؤ پر لگا ہوا ہے... ہمارا بنیادی مقصد ایک ایسا مضبوط یورپ تعمیر کرنا ہے کہ جس کے ساتھ جنگ کا تصور ہی ممکن نہ ہو۔"
سب سے زیادہ زیر بحث مسائل میں سے ایک یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن کی تجویز کردہ "ڈرون وال" ہے جو جنگ میں ڈرون طیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔
انہوں نے ان یورپی یونین کے ان رکن ممالک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ان ممالک میں پولینڈ، رومانیہ، ایسٹونیا اور ڈنمارک شامل ہیں۔
فریڈرکسن نے ان اقدامات کو "ہائبرڈ جنگی حکمت عملی" قرار دیتے ہوئے ایک مضبوط یورپی ردعمل پر زور دیا اور کہا ہےکہ ہر شہری اور علاقے کا تحفظ ضروری ہے۔
فریڈرکسن نے ڈرون ٹیکنالوجی اور اس کے خلاف اقدامات میں سرحد پار سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے کہ ڈرونوں نے جنگ کے طریقے بدل دیئے ہیں ۔
وان ڈیر لیین نے کہاہے کہ "ہمیں ایک درست پین۔یورپی منصوبے کی ضرورت ہے۔ یورپی دفاع کے لئے سرمایہ کاری میں پہلے ہی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سرمایہ کاری میں سکیورٹی ایکشن فار یورپ (SAFE) نامی اور 150 بلین یورو پر مشتمل پروگرام شامل ہے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ "اب ہمیں یہ دیکھنے کے لیے ایک درست منصوبہ چاہیے کہ صلاحیت کے خلا کو کیسے پُر کیا جائے اور آگے کیسے بڑھا جائے۔"
یہ بیانات ایسے وقت پر جاری کئے گئے ہیں کہ جب اسرائیلی بحریہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک دیا ہے۔
اسرائیل کے زیرِ محاصرہ غزّہ کے امدادی سامان پر مشتمل صمود فلوٹیلا نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی بحری فوج کے محاصرے کے بعد سے اس کے زیادہ تر جہازوں سے براہ راست نشریات منقطع ہو گئی ہیں ۔
فلوٹیلا کے منتظمین نے کہا ہےکہ یہ مداخلت اس وقت ہوئی جب اسرائیلی جنگی جہازوں نے مواصلات کو بلاک کر دیا اور قافلے کو روکنے کے لیے حرکت کی۔
جب اس اقدام کے بارے میں پوچھا گیا کہ آیا یہ زیادہ ردعمل تھا تو اسٹیج پر موجود تین رہنماؤں — کوسٹا، فریڈرکسن اور وان ڈیر لیین — نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
کوسٹا نے ایک وقفے کے بعد کہا کہ "کوئی تبصرہ نہیں،" اور کہا کہ انہیں کونسل کے دوران اس واقعے کے بارے میں معلومات نہیں ملی تھیں۔
یورپی یونین غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے بارے میں اپنے موقف پر گہرے اختلافات کا شکار ہے، اور یہ مسئلہ آئندہ اجلاسوں میں متنازع رہنے کی توقع ہے۔














