غّزہ جنگ
2 منٹ پڑھنے
اٹلی کے بعد اسپین نے بھی غزہ فلوٹیلا کی مدد کےلیے بحری جہاز روانہ کر دیا۔
اسرائیل وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں دوبارہ واضح کیا ہے کہ فلوٹیلا کو غزہ پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اٹلی کے بعد اسپین نے بھی غزہ فلوٹیلا کی مدد کےلیے بحری جہاز روانہ کر دیا۔
سانچز: بحریہ کے ایک آپریشنل جہاز کی کارتاگینا سے کل روانگی ہوگی، اگر بحری بیڑے کی مدد اور کسی بھی ممکنہ بچاؤ کی کارروائی کی ضرورت ہو۔ / AP
25 ستمبر 2025

اسپین اور اٹلی نے "عالمی صمود فلوٹیلا" کی حمایت میں بحری جہاز بھیجنے کا فیصلہ  کیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر عائد محاصرے کو توڑنے اور علاقے میں انسانی امداد پہنچانے کے مقصد سے بنائے گئے ’’عالمی صمود فلوٹیلا‘‘ پر حملے جاری ہیں۔

اس دوران اسپین اور اٹلی نے فلوٹیلا کی حمایت کے لیے علاقے کی طرف ایک ایک بحری جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

یونان کے قریب فلوٹیلا کو ڈرون طیاروں سے نشانہ بنانے کے بعد اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے اعلان کیا تھا کہ اسپین غزہ جانے والے امدادی بیڑے کی حمایت کے لیے ایک جنگی جہاز روانہ کرے گا۔

اٹلی نے بھی اطلاع دی ہے کہ وہ غزہ کی طرف جانے والے فلوٹیلا کی حمایت کے لیے ایک بحری فریگیٹ بھیج رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ جہاز ممکنہ ریسکیو آپریشنز کے لیے علاقے کی طرف روانہ کیا گیا ہے۔

اسرائیل وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں دوبارہ واضح کیا ہے کہ فلوٹیلا کو غزہ پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

فلوٹیلا پر اس سے قبل تیونس سے روانہ ہونے کی تیاری کے دوران 9 اور 10 ستمبر کو اور پھر گزشتہ رات تین مرتبہ ڈرون حملے کیے گئے تھے۔

غزہ میں نہایت اہم انسانی امداد پہنچانے کے مقصد کے ساتھ روانہ ہونے والے ’’عالمی صمود فلوٹیلا‘‘ کی حمایت پچاس کے قریب ممالک کے سینکڑوں کارکن کر رہے ہیں۔

غزہ میں اسرائیل پر بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اسی محاصرے کو توڑنے کے مقصد سے اب تک منظم کیے گئے سب سے بڑے بحری قافلے’’عالمی صمود فلوٹیلا‘‘ کے ساتھ غزہ جانے والے 500 سے زائد کارکنوں میں انسانی امداد کے کارکن، سیاستدان، ڈاکٹر، صحافی، فنکار، مذہبی رہنما اور وکلاء بھی شامل ہیں۔