سیاست
3 منٹ پڑھنے
پاکستان: بھارت نے دریائے چناب کے بہاؤ کو موڑ دیا ہے
ہم نے دریائے چناب کے بہاو میں غیر قدرتی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے: کاظم پیرزادہ
پاکستان: بھارت نے دریائے چناب کے بہاؤ کو موڑ دیا ہے
A view of Baglihar Dam, also known as Baglihar Hydroelectric Power Project, on the Chenab river which flows from Indian-administrated Kashmir into Pakistan, at Chanderkote / Reuters

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت نے دریائے چناب کا رُخ تبدیل کر دیا ہے۔

منگل کے روزجاری کردہ بیان میں اسلام آباد نے  کہا ہے کہ دریاوں کے بہاو میں مداخلت کو "اعلانِ جنگ" سمجھا جائے گا ۔ صوبہ پنجاب کے وزیرِ آبپاشی کاظم پیرزادہ نے اے ایف پی کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ " ہم نے دریائے چناب کے  بہاو میں غیر قدرتی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے"۔

واضح رہے کہ دریائے چناب، بھارت سے شروع ہوتا ہے اور ان تین دریاؤں میں شامل ہے جو 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے کنٹرول میں دیے گئے تھے ۔بھارت نے 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں مسلح حملے کے بعد  سندھ طاس معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔  

پاکستان کا، بھارت کے ساتھ، سرحدی  صوبہ 'پنجاب' پاکستان کے   24 کروڑ شہریوں میں سے تقریباً نصف کا گھر  اور ملک کا زرعی مرکز ہے۔  کاظم پیرزادہ نے خبردار کیا ہے کہ "زیادہ تر اثر ان علاقوں پر پڑے گا جہاں متبادل پانی کے ذرائع کم ہیں"۔  انہوں نے مزید کہا ہے کہ "ایک دن دریا کا بہاؤ معمول پر تھا اور اگلے دن یہ بہت کم ہو گیا"۔

پاکستان کے سابقہ وزیرِ ماحولیات کی زیرِ قیادت تھنک ٹینک "جناح انسٹیٹیوٹ" کے مطابق بھارت سے 26 اپریل کو بھاری مقدار میں پانی آزاد کشمیر کی طرف چھوڑ دیا تھا۔

پیرزادہ نے مزید کہا ہے کہ "یہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ہم اس پانی کو استعمال نہ کر سکیں"۔

ایک سینئر بھارتی اہلکار نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا  ہےکہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اور پاکستانی پنجاب کے بالائی حصّے میں واقع بگلیہار ڈیم کے دروازے، پانی کے بہاؤ کو محدود کرنے کے لیے، گِرا  دیئے گئے ہیں۔ ایسا  ایک قلیل المدتی تادیبی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔

سندھ طاس معاہدہ بھارت کو مشترکہ دریاؤں کے پانی کو بیراجوں  یا آبپاشی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن پانی کے بہاؤ کو موڑنے یا نیچے کے بہاؤ میں تبدیل کرنے سے منع کرتا ہے۔

بھارتی حکام نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن بھارت کے سنٹرل واٹر کمیشن کے سابق سربراہ کوشویندر ووہرا نے دی ٹائمز آف انڈیا کو بتایا ہے کہ " معاہدہ معطل ہونے کی وجہ سے ہم کسی بھی منصوبے پر بغیر کسی پابندی کے پانی چھوڑ سکتے ہیں"۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کو لمبے عرصے کے لئے  اور مکمل طور پر نہیں روکا جا سکتا۔  بھارت صرف پانی کے بہاؤ کے وقت کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ تاہم، جِناح انسٹیٹیوٹ نے خبردار کیا  ہےکہ "پانی چھوڑنے کے وقت میں معمولی تبدیلیاں بھی بوائی کے کیلنڈر کو متاثر کر سکتی ہیں اور فصل کی پیداوار کو کم کر سکتی ہیں"۔

دریافت کیجیے
امریکہ، ہم نے ایران کے ڈراؤنز مار گرائے ہیں
جنوبی فلپائن میں ہولناک زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 61 تک پہنچ گئی
فلسطینی فٹبال  چیف ورلڈ کپ میں شرکت کرنے کے لیے امریکی ویزے سے محروم
سروے کے مطابق نتن یاہو کی لیکود پارٹی کی حمایت ایک سال کی کم ترین سطح پر
امریکہ یورپ میں نیٹو کے لیے تعینات طیاروں اور جنگی جہازوں  کی تعداد میں گراوٹ لائے گا
جنوبی کوریا نے ورلڈ کپ کا آغاز فتح سے کیا
ٹرمپ: 'عظیم' معاہدہ ہونے کو ہے، ایران: فیصلہ ابھی حتمی نہیں ہے
ترک ہلال احمر عالمی انسانی دوستانہ کوششوں کی بدولت مظلوم انسانوں کے دلوں میں گھر کر رہا ہے: ایردوان
ایران: ہم  نے 18 اہم امریکی فوجی اہداف پر حملے کئے ہیں
ٹرمپ: تہران انتظامیہ نے مجھے فون کیا ہے
فلپائن: زلزلہ زدہ دیہات میں فاقہ کشی کا سامنا
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ: "مجھے رہا کیا جائے"
ہم نے اردن میں امریکی اڈّوں کو نشانہ بنایا ہے: ایران
ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان کو پانی کی ایک بوند نہ ملے:بھارت
یونان نے مہاجرین کی بے دخلی کا قانون منظور کر لیا