ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
ترکیہ کا شام میں فائر بندی اور مکمل انضمام معاہدے کا خیر مقدم
یہ پیش رفت اتفاقیہ نہیں بلکہ صدر کی جانب سے برسوں کے دوران بارہا زیر لب لائی گئی اصولی باتوں اور انتباہات کی عکاس ہے، برہان الدین دُوران
ترکیہ کا شام میں فائر بندی اور مکمل انضمام معاہدے کا خیر مقدم
دوران نے کہا کہ شام میں دیرپا استحکام کا انحصار تمام نسلی اور فرقہ وارانہ گروہوں کے حقوق کو مساوی شہریت کی بنیاد پر ضمانت دینے پر ہے۔ / AA
19 جنوری 2026

ترک محکمہ  مواصلات کے  سربراہ برہان الدین دُوران نے شام میں جنگ بندی اور مکمل انضمام معاہدے کو صدر رجب طیب ایردوان کا طویل عرصے سے ہدف ہونے والے 'دہشت گردی سے پاک خطہ' کے قیام کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔

دوران نے ترکیہ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم NSosyal پر ایک پوسٹ میں  لکھا ہے کہ "معاہدے کی شرائط کے نفاذ پر کڑی نگاہ رکھی جائے گی" یہ پیش رفت اتفاقیہ نہیں بلکہ صدر کی جانب سے برسوں کے دوران بارہا زیر لب لائی گئی اصولی باتوں اور انتباہات کی عکاس ہے۔

دُوران نے کہا کہ شام میں دیرپا استحکام ان تمام نسلی اور فرقہ وارانہ گروپوں کے حقوق کو مساوی شہریت کی بنیاد پر یقینی بنانے پر منحصر ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "ایک ایسا شام جو اپنی علاقائی سالمیت برقرار رکھے اور دہشت گرد تنظیموں سے پاک ہو، خطے میں امن کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے" لہذا اس حوالے سے حکومتِ شام کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اور کوششیں اہم ہیں۔

دوران نے  بتایا  کہ ترکیہ میدانِ عمل میں اور مذاکراتی میز دونوں جگہوں پر ایک مضبوط فریق ہے،  دہشت گرد گروہوں کے خلاف آپریشنز ترکیہ کی سرحدوں کے ساتھ ایک محفوظ زون قائم کرنے میں مدد دے رہے ہیں، جب کہ سفارتی کوششیں شام کے مستقبل کو تشکیل دینے والے سلسلے  کی معاونت کر رہی ہیں۔

سربراہ مواصلات نے مزید کہا کہ "شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری ترکیہ کے لیے ناگزیر ہیں" انقرہ اپنے ہمسائے کی سلامتی کو اپنی سلامتی سے الگ تصور نہیں کرتا اور امن کو ایک اصول اور استحکام کو ہدف سمجھتا ہے۔

دریافت کیجیے
بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری، ہلاکتوں کی تعداد 250 تک پہنچ گئی
مہاجر کشتی یونانی ساحلی گارڈ کے جہاز سے ٹکرا گئی ، کم از کم 14 افراد ہلاک
شام کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری امن کی ضمانت ہے:ترکیہ
بھارت میں ’نیپا‘ وائرس کا پھیلاؤ
انڈونیشیا: سیمرو آتش فشاں پہاڑ میں سات دھماکے
جاوا میں لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 85 تک پہنچ گئی
سعودی-ترک سرمایہ کاری فورم شروع ہو گیا
یوکرین، روس اور امریکی نمائندے ابو ظہبی میں امن مذاکرات میں شرکت
13 سالہ آسٹریلوی بچے نے اپنے خاندان کو بچانے کے لیے گھنٹوں تک تیراکی کی
شام: وائے پی جی نے 23 شامی شہریوں کو حراست میں لے لیا
متحدہ عرب امارات: ہم جنگ کے حق میں نہیں، امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کریں
نامعلوم ڈرون اسلحہ گودام کے قریب تباہ،پولش فوج چوکناہو گئی
فلسطینیوں کا دوسرا گروپ رفح بارڈر کے راستے غزہ واپس لوٹ آیا
شام: داخلہ سلامتی دستے قامشلی میں داخل ہو جائیں گے
جرمنی: یورپ کو زیادہ خود مختار اور باہم متحدہ ہو جانا چاہیئے