ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ: صدر اردوعان ایتھوپیا کے دورے پر
صدر اردوعان، وزیر اعظم ابی احمد کی دعوت پر اور باہمی تعلقات کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر اڈیس ابابا کا دورہ کر رہے ہیں
ترکیہ: صدر اردوعان ایتھوپیا کے دورے پر
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان 17 فروری 2026 کو سرکاری دورے پر ایتھوپیا روانہ۔ / AA
17 فروری 2026

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان کے متوقع دورہ ایتھوپیا کو مقامی ذرائع ابلاغ میں وسیع جگہ دی گئی ہے۔

 خبروں میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ۔ایتھوپیا تعلقات ماضی میں 16 ویں صدی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ادیس ابابا میں ترکیہ کا سفارت خانہ کھُلنے کی 100 ویں سالگرہ  کے موقع پر متوقع یہ دورہ ایک سفارتی اہمیت کا حامل  ہے۔

ذرائع ابلاغ کے سرکاری و نجی ہر دو  اداروں نے اس دورے کو مثبت انداز میں پیش کیا  اور  طویل المدت روابط، بڑھتے ہوئے اقتصادی تبادلے اور خطّے میں انقرہ کے  سفارتی کردار پر زور دیا ہے۔

وزیرِ اعظم ابی احمد کی دعوت پر آج بروز منگل  کو متوقع یہ دورہ صدر  اردوعان کا دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد پہلا دورہ  ایتھوپیا ہوگا۔

ایتھوپیا کے سرکاری نشریاتی ادارے فانا براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے "نئے ترکیہ کے معمار" کی سرخی سے شائع کردہ ایک مضمون میں صدر اردوعان کو نئے ترکیہ کا معمار قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو  ترقی دے گا۔

ذرائع ابلاغ کے ایک نجی ادارے ایڈِس اسٹینڈرڈ نے بھی اس دورے کی کوریج کی اور اسے ہارن آف افریقہ میں کشیدگی اور خطے میں ترکیہ کی سفارتی مصروفیات کے ساتھ جوڑا ہے۔ خبرمیں کہا گیا  ہےکہ دورے کے دوران دونوں ممالک، سرکاری سطح پر پہلے سے طے شدہ، تعاون کے متعدد معاہدوں پر دستخط کریں گے ۔

مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ اکتوبر میں وزیر اعظم احمد  ابی کی زیرِ قیادت شروع ہونے والے ایک پان افریقی ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم "پلس آف افریقہ"  نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ بحیرہ احمر اور ہارن آف افریقہ میں اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے  اور  صدر اردوعان کا دورہ ایتھوپیا بھی  تجارت، انفراسٹرکچر اور سکیورٹی کے روابط میں اضافے کے لئے کیا جا رہا ہے۔

ترکیہ۔ایتھوپیا تعلقات کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں  ایتھوپیا میں ترکیہ کے سفیر برق باران نے کہا  ہےکہ صدر اردوعان کا دورہ "موجودہ مضبوط تعلقات کی بلندی" کی علامت ہے۔

متوازن سیاسی روابط اور مکالمہ

ترکیہ کے آزاد محقق ایمرے یٰسین کیکیچ نے خبر رساں ادارے انادولو سے بات چیت میں کہا ہے کہ  "اس غیر یقینی عالمی ترتیب میں، ترکیہ اور ایتھوپیا نے کسی تیسرے فریق کی ثالثی کے بغیر ایک بہت متوازن اور کھلا تعلق قائم کیا ہے۔ اسے برقرار رکھا جانا اور مضبوط کیا جانا چاہیے"۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ  قومی مفادات کے مختلف  ہونے کے ادوار میں بھی دونوں ملکوں کا باہمی تعلق  سیاسی سمجھ بوجھ سے تشکیل پایا ہے۔

اڈیس ابابا میں قائم ایک تھنک ٹینک کے سربراہ اور محقق 'ابراہیم مولوشیوا' نے ترکیہ۔ایتھوپیا سو سالہ تعلقات کی یاد میں منعقدہ ایک پینل میں کہا ہے کہ"مجھے یقین ہے کہ ترکیہ، ایتھوپیا کے موقف کو سمجھتا ہے۔اس پہلو کا مشاہدہ  ہم نے، دریائے نیل کے تنازعے کے دوران بھی  اور  بحری راستوں تک رسائی کی تلاش کے دوران بھی  کیا ہے۔ اس افہام و تفہیم کا تعلق  جغرافیائی و ریاستی تاریخ کی مماثلتوں سے ہے"۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس مشترکہ نقطۂ نظر نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست اقدامات  کو ممکن بنایا ہے۔ بعض اوقات ترکیہ کا موقف مختلف  بھی ہو تو کم از کم دونوں ممالک  ایک دوسرے کے نقطہ نظر کا احترام کرتے ہیں اور مکالمے اور باہمی تعلقات کو ایک قدم آگے بڑھانے  میں اس پہلو کا دخل بہت کلیدی ہے۔ اس پہلو  نے ترکیہ کو حساس علاقائی معاملات میں ثالثی میں کامیاب کیا۔ اس کی ایک مثال  ایتھوپیا-صومالیہ تنازعہ ہے جو تاریخی انقرہ اعلامیہ کے ذریعے حل ہوا ہے"۔

دریافت کیجیے
عالمی صمود بحری بیڑہ دوبارہ غزہ کے لئے عازمِ سفر
ترکیہ: اردوعان۔ماکرون ملاقات
پاکستان میں 21 گھنٹے کے طویل امریکہ۔ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے
امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی: ایران ذرائع ابلاغ
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع
ایران جنگ می امریکی طیارہ نما ڈراون طیاروں کو وسیع پیمانے کا نقصان
اسرائیل کے غزہ کے ایک مہاجر کیمپ پر حملے میں فلسطینی شہری شہید
امریکی خفیہ رپورٹ کے مطابق چین ایران کو دفاعی فضائی نظام فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے
امریکی نائب صدر جے ونس امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے
اسرائیل کا دعویٰ: ہم  نے ایران جنگ کے دوران 10,800 ہوائی حملے کیے ہیں
میلانیا ٹرمپ: میرے  جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین سے کبھی کوئی تعلقات نہیں رہے
مشرق وسطی میں ایرانی ڈرونز گرانے میں مدد کی ہے:زیلنسکی
اسرائیل انسانیت کے لیے ایک "کینسر ہے": خواجہ آصف
ایرانی سینیئر سفارتکار  امریکہ۔اسرائیل دہشت گرد حملے میں ہلاک
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے