ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان کے متوقع دورہ ایتھوپیا کو مقامی ذرائع ابلاغ میں وسیع جگہ دی گئی ہے۔
خبروں میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ۔ایتھوپیا تعلقات ماضی میں 16 ویں صدی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ادیس ابابا میں ترکیہ کا سفارت خانہ کھُلنے کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر متوقع یہ دورہ ایک سفارتی اہمیت کا حامل ہے۔
ذرائع ابلاغ کے سرکاری و نجی ہر دو اداروں نے اس دورے کو مثبت انداز میں پیش کیا اور طویل المدت روابط، بڑھتے ہوئے اقتصادی تبادلے اور خطّے میں انقرہ کے سفارتی کردار پر زور دیا ہے۔
وزیرِ اعظم ابی احمد کی دعوت پر آج بروز منگل کو متوقع یہ دورہ صدر اردوعان کا دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد پہلا دورہ ایتھوپیا ہوگا۔
ایتھوپیا کے سرکاری نشریاتی ادارے فانا براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے "نئے ترکیہ کے معمار" کی سرخی سے شائع کردہ ایک مضمون میں صدر اردوعان کو نئے ترکیہ کا معمار قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو ترقی دے گا۔
ذرائع ابلاغ کے ایک نجی ادارے ایڈِس اسٹینڈرڈ نے بھی اس دورے کی کوریج کی اور اسے ہارن آف افریقہ میں کشیدگی اور خطے میں ترکیہ کی سفارتی مصروفیات کے ساتھ جوڑا ہے۔ خبرمیں کہا گیا ہےکہ دورے کے دوران دونوں ممالک، سرکاری سطح پر پہلے سے طے شدہ، تعاون کے متعدد معاہدوں پر دستخط کریں گے ۔
مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ اکتوبر میں وزیر اعظم احمد ابی کی زیرِ قیادت شروع ہونے والے ایک پان افریقی ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم "پلس آف افریقہ" نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ بحیرہ احمر اور ہارن آف افریقہ میں اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے اور صدر اردوعان کا دورہ ایتھوپیا بھی تجارت، انفراسٹرکچر اور سکیورٹی کے روابط میں اضافے کے لئے کیا جا رہا ہے۔
ترکیہ۔ایتھوپیا تعلقات کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں ایتھوپیا میں ترکیہ کے سفیر برق باران نے کہا ہےکہ صدر اردوعان کا دورہ "موجودہ مضبوط تعلقات کی بلندی" کی علامت ہے۔
متوازن سیاسی روابط اور مکالمہ
ترکیہ کے آزاد محقق ایمرے یٰسین کیکیچ نے خبر رساں ادارے انادولو سے بات چیت میں کہا ہے کہ "اس غیر یقینی عالمی ترتیب میں، ترکیہ اور ایتھوپیا نے کسی تیسرے فریق کی ثالثی کے بغیر ایک بہت متوازن اور کھلا تعلق قائم کیا ہے۔ اسے برقرار رکھا جانا اور مضبوط کیا جانا چاہیے"۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قومی مفادات کے مختلف ہونے کے ادوار میں بھی دونوں ملکوں کا باہمی تعلق سیاسی سمجھ بوجھ سے تشکیل پایا ہے۔
اڈیس ابابا میں قائم ایک تھنک ٹینک کے سربراہ اور محقق 'ابراہیم مولوشیوا' نے ترکیہ۔ایتھوپیا سو سالہ تعلقات کی یاد میں منعقدہ ایک پینل میں کہا ہے کہ"مجھے یقین ہے کہ ترکیہ، ایتھوپیا کے موقف کو سمجھتا ہے۔اس پہلو کا مشاہدہ ہم نے، دریائے نیل کے تنازعے کے دوران بھی اور بحری راستوں تک رسائی کی تلاش کے دوران بھی کیا ہے۔ اس افہام و تفہیم کا تعلق جغرافیائی و ریاستی تاریخ کی مماثلتوں سے ہے"۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس مشترکہ نقطۂ نظر نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست اقدامات کو ممکن بنایا ہے۔ بعض اوقات ترکیہ کا موقف مختلف بھی ہو تو کم از کم دونوں ممالک ایک دوسرے کے نقطہ نظر کا احترام کرتے ہیں اور مکالمے اور باہمی تعلقات کو ایک قدم آگے بڑھانے میں اس پہلو کا دخل بہت کلیدی ہے۔ اس پہلو نے ترکیہ کو حساس علاقائی معاملات میں ثالثی میں کامیاب کیا۔ اس کی ایک مثال ایتھوپیا-صومالیہ تنازعہ ہے جو تاریخی انقرہ اعلامیہ کے ذریعے حل ہوا ہے"۔











