سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے جمعرات کو ریاض میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کی توثیق کی گئی۔
جمعرات کو X پر پوسٹ میں شہزادہ خالد نے کہا کہ ملاقات دو طرفہ عسکری روابط کو مضبوط بنانے اور ریاض اور اسلام آباد کے مشترکہ مفادات کے تناظر میں عالمی امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانے پر مرکوز تھی۔
یہ بات چیت مشرقِ وسطیٰ میں خطے کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہوئی، جب کہ ریاض اور اسلام آباد دفاع اور سکیورٹی کے امور میں قریبی ہم آہنگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
بدھ کو پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ریاض میں سعودی نائب وزیر داخلہ عبدالعزیز بن محمد بن عیّاف سے ملاقات کی اور سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
پاکستان طویل عرصے سےسعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرتا رہا ہے، جس میں تربیت اور مشاورتی تعیناتیاں شامل ہیں، جبکہ سعودی عرب نے مالی دباؤ کے اوقات میں بارہا پاکستان کی مالی مدد کی ہے۔
2018 میں ریاض نے پاکستان کے لیے 6 بلین ڈالر کا امدادی پیکج اعلان کیا، جس میں مرکزی بینک میں 3 بلین ڈالر کی جمع رقم اور مؤخر ادائیگی پر 3 بلین ڈالر کے تیل کی فراہمی شامل تھی۔
اس کے بعد سعودی عرب نے جمع شدہ رقم متعدد بار رول اوور کی، جس میں گزشتہ سال 1.2 بلین ڈالر کی مؤخر ادائیگی بھی شامل تھی، جس سے اسلام آباد کو ادائیگیوں کے توازن کے دباؤ کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں دفاعی آؤٹریچ تیز کی ہے کیونکہ وہ اسلحہ برآمدات بڑھانے اور اپنی گھریلو دفاعی صنعت کو معاشی فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ستمبر میں، سعودی عرب اور پاکستان نے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس میں وعدہ کیا گیا کہ "کسی بھی ملک پر کسی بھی جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔" ریاض اور اسلام آباد نے deterrence umbrella پر اتفاق کیا جس سے دونوں ممالک کو اپنی پوری عسکری صلاحیتوں کے استعمال کی اجازت ملے گی ۔
اس معاہدے کا مقصد "سکیورٹی کو بہتر بنانا، خطے اور دنیا میں امن کا حصول، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے شعبوں کی ترقی کے لیے کوشش کرنا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ ردِ عمل کو مضبوط کرنا ہے۔
گزشتہ ماہ ایسی رپورٹس آئیں کہ پاکستان اور سعودی عرب تقریباً 2 بلین ڈالر کے سعودی قرضوں کو JF-17 جنگی طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر بات چیت کر رہے تھے۔
ماہرین نے کہا کہ یہ آزمودہ ہے اور مزید کہا کہ یہ لاگت کے لحاظ سے بھی مؤثر ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ یہ طیارہ پچھلے سال مئی میں بھارت کے ساتھ اس کے تنازع کے دوران استعمال کیا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ پاکستانی وزیر رضا حیات ہرا نے کہا کہ پاکستان-سعودی عرب-ترکیہ سہ فریقی معاہدہ بھی پہلے ہی زیرِ غور ہے۔










