سیاسی رہنماؤں اور قانون سازوں نے، 31 سالہ قدامت پسند مبصر اور ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے بانی، 'چارلی کرک' کے قتل پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرک کو "عظیم اور یہاں تک کہ افسانوی" قرار دیا اور کہا ہے کہ "امریکہ میں کوئی بھی، نوجوانوں کے دل کو، چارلی سے بہتر نہیں سمجھتا تھا۔ وہ سب کے محبوب اور قابلِ احترام تھے، خاص طور پر میرے، اور اب وہ ہمارے ساتھ نہیں رہے۔ میلانیا اور میری ہمدردیاں ان کی خوبصورت بیوی ایرکا اور خاندان کے ساتھ ہیں۔ چارلی، ہم آپ سے محبت کرتے ہیں!"
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے لکھا: "اے خدا، انہیں ابدی سکون عطا فرما۔"
سابق صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ "ہمارے ملک میں اس قسم کے تشدّد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ فوراً ختم ہونا چاہیے۔ جِل اور میں چارلی کرک کے خاندان اور عزیزوں کے لیے دعاگو ہیں۔"
امریکہ کے وزیر زراعت بروک رولنز نے کہا ہے کہ "میرے سب سے پیارے دوست، مسیح اور امریکہ کے جنگجو کی موت ایک المیہ ہے۔چاہے آپ کی سیاست کچھ بھی ہو، یہ قوم کے لیے بھی ایک المیہ ہے۔"
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کرک کو "اسرائیل کا شیر دل دوست" قرار دیا اور کہا ہے کہ "انہوں نے جھوٹ کے خلاف جنگ کی اور یہود و عیسائی تہذیب کے لیے مضبوطی سے کھڑے رہے۔ میں نے دو ہفتے قبل ان سے بات کی تھی اور انہیں اسرائیل آنے کی دعوت دی تھی۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ دورہ اب ممکن نہیں ہوگا۔"
برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے اس قتل پر "گہرے صدمے" کا اظہار کیا اور زور دیا ہےکہ "سیاسی تشدّد کا ہماری معاشروں میں کوئی مقام نہیں ہے۔"
ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے لکھا ہے کہ"میں تم سے محبت کرتا ہوں بھائی۔ تم نے بہت سے لوگوں کو اپنی آواز بلند کرنے کی ہمت دی اور ہم کبھی خاموش نہیں ہوں گے۔"
ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے چیئرمین جو گروٹرز نے کرک کی موت کو "انتہائی خوفناک" قرار دیا اور کہا ہے کہ"ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کو متحد ہو کر اس بربریت کی مذمت کرنی چاہیے جس کا امریکہ میں کوئی مقام نہیں ہے۔"
یوٹاہ کے سینیٹر مائیک لی نے اس فائرنگ کو "بزدلانہ تشدد کا عمل" قرار دیا اور کہا ہے کہ"یہ حملی پُر امن شکل میں اپنے ملک کو بچانے کے لئے کوشاں چارلی جیسے آزادی کے تمام حامیوں، سِول مباحثے کے لیے جمع طلباء اور تمام امریکیوں پر حملہ ہے ۔ چارلی ہمیشہ زندہ رہیں گے۔"
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی تعزیت کا اظہار کیا۔
فلسطین کے حامیوں سمیت سیاسی مبصرین نے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
قدامت پسند مبصر کینڈیس اوونز نے ایکس پر کہا ہے کہ "میں اسے سمجھ نہیں پا رہی ہوں۔"
غزہ نسل کشی کے بعد اسلام قبول کرنے والے فلسطین کے حامی کارکن شان کنگ نے اس قتل کو "خوفناک" قرار دیا اور ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "چارلی کرک پر فائرنگ خوفناک تھی۔ مجھے اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ ان کے نظریات کیا ہیں۔ آپ ان لوگوں کو گولی نہیں مار سکتے جن سے آپ اختلاف کرتے ہیں۔ یہ ناقابل قبول ہے۔"
سابق امریکی صدر براک اوباما نے ملک میں سیاسی تشدد کے خاتمے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ہمیں ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ چارلی کرک کو گولی مارنے والے شخص کے محرکات کیا تھے، لیکن اس قسم کے قابل نفرت تشدد کا ہماری جمہوریت میں کوئی مقام نہیں ہے۔ مشیل اور میں آج رات چارلی کے خاندان، خاص طور پر ان کی بیوی ایرکا اور ان کے دو چھوٹے بچوں کے لیے دعاگو ہیں۔"
واضح رہے کہ چارلی کرک کو یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک مباحثے کی تقریب کے دوران گولی مار دی گئی تھی۔








