دنیا
2 منٹ پڑھنے
صومالی لینڈ میں کسی بھی اسرائیلی موجودگی کو "عسکری ہدف" سمجھا جائے گا: الحوثی
ہم صومالی لینڈ میں کسی بھی اسرائیلی موجودگی کو اپنی مسلح افواج کے لیے عسکری ہدف سمجھتے ہیں: عبدالملک الحوثی
صومالی لینڈ میں کسی بھی اسرائیلی موجودگی کو "عسکری ہدف" سمجھا جائے گا: الحوثی
Somalis attend a demonstration in Mogadishu. / Reuters
29 دسمبر 2025

حوثیوں کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے خبردار کیا ہے کہ صومالی لینڈ میں کسی بھی اسرائیلی موجودگی کو "عسکری ہدف" سمجھا جائے گا۔

اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کےبعد حوثی سربراہ عبدالملک الحوثی نے کل بروز اتوار جاری کردہ بیان میں  کہا ہے کہ "ہم صومالی لینڈ میں کسی بھی اسرائیلی موجودگی کو اپنی مسلح افواج کے لیے عسکری ہدف سمجھتے ہیں۔صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا صومالیہ اور یمن کے خلاف جارحیت اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے"۔

اسرائیل  ، صومالی لینڈ کو خودمختار ریاست تسلیم کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ترکیہ اور افریقہ و مشرق وسطیٰ کے ممالک سمیت متعدد ممالک  نے اس اقدام کی  مذّمت کی ہے۔

واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا لیکن اسے کسی ملک نے  سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا  تھا۔ اعلانِ علیحدگی کے بعد سےصومالی لینڈ  ایک خود مختار انتظامی، سیاسی اور سیکورٹی اکائی کے طور پر کام کررہا ہے۔ صومالیہ  مرکزی حکومت اس خطے پر کنٹرول نافذ کرنے سے قاصر ہے اور صومالی لینڈ  قیادت، بین الاقوامی سطح پر، قومی شناخت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

صومالیہ حکومت صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کرتی  اور  اسے اپنی زمین کا ایک لازمی حصہ قرار دیتی ہے۔ اس کے ساتھ کسی بھی براہِ راست معاہدے یا رابطے کو ملکی خود مختاری اور اتحاد کی خلاف ورزی تصور کرتی ہے۔

دوسری طرف حوثیوں نے غزّہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیلی بحری جہازوں پر حملوں سے بین الاقوامی شہرت حاصل کی ۔ حوثیوں کا موقف ہے  کہ یہ حملے  غزّہ میں اسرائیل کی طرف فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی کو روکنے کے لئے تھے۔

غزہ میں 10 اکتوبر کو شروع  ہونے والی جنگ بندی کے آغاز کے بعدسے حوثیوں کی طرف سے  کسی بھی حملے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔