سیاست
3 منٹ پڑھنے
چین کا دوسرے ممالک کی طرف سے امریکی تجارت کو سہولت فراہم کرنے پر انتباہ
چین کی وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکہ کے ساتھ اس کے مفادات کو نقصان پہنچائے والے معاہدے کرے گا تو وہ اس کے خلاف اقدامات اٹھائے گا۔
چین کا دوسرے ممالک کی طرف سے امریکی تجارت کو سہولت فراہم کرنے پر انتباہ
Trump paused the historic tariffs he announced on dozens of countries on April 2, except those on China, singling out the world's second-largest economy for some of its biggest tariffs. / Reuters

چینی وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ چین تمام فریقین کے ساتھ مساوی بنیادوں پر مشاورت کے ذریعے اقتصادی اور تجارتی اختلافات کو حل کرنے کا احترام کرتا ہے، لیکن وہ کسی بھی فریق کی جانب سے چین کے نقصان پر معاہدہ کرنے کی سختی سے مخالفت کرے گا۔

وزارت کے ترجمان نے پیر کے روز کہا کہ اگر کوئی ملک ایسے معاہدے کرنے کی کوشش کرے گا تو چین "فیصلہ کن اور باہمی ردعمل" دے گا۔ یہ بیان اس خبر کے جواب میں دیا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ دیگر ممالک پر دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ وہ چین کے ساتھ تجارت کو محدود کریں اور اس کے بدلے امریکی محصولات سے استثنیٰ حاصل کریں۔

ترجمان نے کہا، "امریکہ نے نام نہاد 'برابری' کے نام پر تمام تجارتی شراکت داروں پر محصولات کا غلط استعمال کیا ہے، اور ساتھ ہی تمام فریقین کو نام نہاد 'باہمی محصولات' کے مذاکرات شروع کرنے پر مجبور کیا ہے۔" انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قابل احترام نہیں ہوگا۔

وزارت نے کہا کہ چین اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم اور اس کا اہل ہے اور وہ تمام فریقین کے ساتھ  باہمی یکجہتی کو مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے۔

 دنیا کے باقی ممالک پر 10 فیصد عمومی محصولات عائد کیے گئے ہیں تو چین کو کئی مصنوعات پر 145 فیصد تک کے محصولات کا سامنا ہے۔ بیجنگ نے امریکی مصنوعات پر 125 فیصد محصولات کے ساتھ جواب دیا ہے۔

اغلاط کو درست کریں

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ "یہ دیکھ کر اچھا لگتا ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ ہم دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔" انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی رہنما اور کاروباری ٹیرف کے اعلان کے بعد سے ریلیف کی درخواست کر رہے ہیں۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کے 2 اپریل کے اعلان 'آزادی کے دن'، جس میں انہوں نے ان ممالک پر باہمی محصولات عائد کیے جن پر وہ غیر منصفانہ تجارتی عمل کا الزام لگاتے ہیں، نے غیر ملکی حکومتوں اور کارپوریٹ رہنماؤں سے رابطے کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے لکھا، "انہیں دہائیوں کے غلط استعمال کو درست کرنا ہوگا، لیکن یہ ان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنے عظیم ملک کی دولت کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا اور حقیقی باہمی تعلقات پیدا کرنے ہوں گے۔"

بلومبرگ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ان ممالک پر دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے جو امریکی محصولات میں کمی یا استثنیٰ چاہتے ہیں تاکہ وہ چین کے ساتھ تجارت کو محدود کریں، جس میں مالی پابندیاں بھی شامل ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں  امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا کہ تقریباً 50 ممالک نے ان سے رابطہ کیا ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ اضافی محصولات پر بات چیت کی جا سکے۔

ٹرمپ نے 2 اپریل کو درجنوں ممالک پر اعلان کردہ تاریخی محصولات پر عمل درآمد کو  سوائے  چین کے روک دیا تھا۔

 

دریافت کیجیے
جنوبی تھائی لینڈ میں چار صوبوں میں 70 سے زیادہ مقامات پر آتشزدگی اور بم حملے
اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ میں 30 سال کے استعمال کے لائق گولیاں استعمال کی ہیں
امریکہ میں، 75 ممالک کے شہریوں پر عائد کردہ امیگرینٹ ویزے پر پابندی کالعدم قرار
امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں  ایک نئی فوجی کارروائی
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے قصرہ میں تین فلسطینی گھروں کو گھیرے میں لے لیا
کینیڈا ہماری ریاست بنے بغیر تمام فوائد چاہتاہے:ٹرمپ
ہمسایہ ممالک امریکہ کا آلہ کار نہ بنیں ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا:ایران
"اسرائیل پر پابندی ختم "کولومبیا کوئلہ برآمد کرےگا
جب تک اقتدار پر ہوں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہوگا:نیتن یاہو
ایران ' نہ جنگ ، نہ امن' کی صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے:پزشکیان
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
کولمبیا میں زلزلے سے اموات کی تعداد میں اضافہ؛ ترکیہ کی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی