سیاست
3 منٹ پڑھنے
"یو کے لائرز فار اسرائیل" کابیان "انتہائی مکروہ" ہے: فلسطین یکجہتی مہم
یہ کہنا کہ جنگ موٹاپے کو کم کر سکتی ہے، "انتہائی ظالمانہ نظریہ" ہے۔ ایسی انتہا پسندی کو اپنے اظہار کا کوئی پلیٹ فورم میّسر نہیں ہونا چاہیے: ڈوئل
"یو کے لائرز فار اسرائیل" کابیان "انتہائی مکروہ" ہے: فلسطین یکجہتی مہم
UK-based Israeli advocacy group facing backlash for saying Gaza war may reduce obesity / AA

حقوقِ انسانی تنظیموں نے "یو کے لائرز فار اسرائیل" (UKLFI) نامی تنظیم کے متنازع بیان پر شدید تنقید کی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں جاری "جنگ" موٹاپے کو کم کر سکتی ہے۔

ایسے حالات میں کہ جب  اقوام متحدہ کی ایجنسیاں طویل عرصے سے فلسطینیوں کو درپیش قحط کے خطرے کے بارے میں خبردار کر رہی ہیں حقوقِ انسانی تنظیموں کی جانب سے اس متنازع بیان کی شدید مذمت کی گئی  ہے۔

برطانیہ میں قائم فلسطین یکجہتی مہم (PSC) نے "یو کے لائرز فار اسرائیل" (UKLFI)  کے بیان کو "انتہائی مکروہ" قرار دیا اور سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ"ایسے وقت میں کہ جب غزہ کے بچے بھوک، بیماری اور موت کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں" UK لائرز فار اسرائیل" کے سربراہ کا یہ کہنا کہ وہ بھوکا پیاسا رہ کر وزن کم کرنے کا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں مکمل معنوں میں  ایک   مکروہ بیان  ہے"۔

عرب۔برطانوی افہام و تفہیم کونسل (CAABU) کے سربراہ 'کرس ڈوئل' کے مطابق، یہ کہنا کہ جنگ موٹاپے کو کم کر سکتی ہے، "انتہائی ظالمانہ نظریہ" ہے۔

"ڈوئل نے کہا ہے کہ " اسرائیل کا یہ کہنا کہ  اس نے 23 لاکھ فلسطینیوں کو جبری  ڈائٹ پر ڈال دیا ہے تاکہ ان کے موٹاپے کی سطح کو بہتر بنایا جا سکے، کس قدر مہذب بیان ہے۔یہی نہیں  کسی بھی قانونی بنیاد سے محروم ایسی خوفناک سوچ کو زبان پر لانا  ہی  ناقابل یقین ہے۔ ایسی انتہا پسندی کو اپنے اظہار کا کوئی پلیٹ فورم میّسر نہیں ہونا چاہیے"۔  

یہ ردعمل، دنیا کے بھاری ترین  صارفین  والےکوآپریٹو گروپوں میں سے " دی کو-آپریٹو گروپ" کی طرف سے اسرائیلی مصنوعات کی فروخت بند کرنے کے مطالبے کے جواب میں  "یو کے لائرز فار اسرائیل" (UKLFI) کے جاری کردہ بیان  کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔

UKLFI نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا  کہ موجودہ جنگ سے قبل غزّہ کے بڑے ترین مسائل میں سے ایک 'موٹاپا' تھا۔ اس پہلو کو ذہن میں رکھا جائے تو یہ کہنا ممکن ہے کہ "دی کو-آپریٹو گروپ"  نے معیار زندگی کو بلند کرنے کے اہل عوامل کو   نظر انداز کر دیا ہے۔

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، غزہ میں تقریباً 24 لاکھ افراد مکمل طور پر انسانی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔

2 مارچ سے، اسرائیل نے غزہ کی گزرگاہوں کو خوراک، طبی اور انسانی امداد کے لیے بند کر رکھا ہے، جس سے علاقے میں پہلے سے موجود انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔

اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملے میں غزہ میں 52,800 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نومبر  میں،  غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت سوز جرائم کے الزامات میں،  اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

اسرائیل کو غزہ  جنگ کی وجہ سے  بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔

دریافت کیجیے
اسرائیل: انتخابی کمیٹی نے نیتن یاہو کو جرمانہ کر دیا
صدر ایردوان، برسوں سے غزہ کی سب سے بلند آواز رہے ہیں
مصر: صدر سیسی جنوبی کوریا پہنچ گئے
"ایک  سنہرے دور کا اختتام" میسی نے فٹ بال کو خیر باد کہہ دیا
پاکستان:طویل الفاصلہ فتح-4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
ماسکو یوکرین پر  بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے: زیلینسکی
بھارت: پولیس نے راہول گاندھی کو گرفتار کر لیا۔
حوثیوں کا دعوی: سعودی ہوائی اڈوں اور فوجی بیسوں پر ڈرون اور میزائل حملے کئے گئے ہیں۔
صدر رجب طیب اردوان کا استنبول کے 103 ویں یوم ِنجات پر خصوصی پیغام
امریکہ: نضال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی
اسرائیل نے فوج کو غزہ پر حملوں کے لئے تیاری کا حکم دے دیا
امریکی وزیر خارجہ اچانک آئس لینڈ پہنچ گئے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"