سیاست
3 منٹ پڑھنے
گرین لینڈ کی سیاسی جماعتوں کا مشترکہ اعلامیہ:"ہم امریکہ کے ماتحت نہیں آنا چاہتے"
یہ بیان جمعہ کی رات آیا، جب ٹرمپ نے اعادہ کیا کہ واشنگٹن "گرین لینڈ کے بارے میں کچھ کرے گا، چاہے وہ پسند کریں یا نہ کریں"۔
گرین لینڈ کی سیاسی جماعتوں کا مشترکہ اعلامیہ:"ہم امریکہ کے ماتحت نہیں آنا چاہتے"
روس اور چین دونوں نے حالیہ برسوں میں خطے میں اپنی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے، لیکن کسی نے بھی اس وسیع برفانی جزیرے پر کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے۔ / Reuters
10 جنوری 2026

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر معدنیات سے مالا مال ڈنمارک کے خودمختار علاقے پر فوجی طاقت کے ذریعے قبضے کا اشارہ دیا، جس سے دنیا بھر میں تشویش پیدا ہو گئی ہے تو گرین لینڈ کی سیاسی جماعتوں نے کہا ہے کہ ہم واشنگٹن کے ماتحت  نہیں آنا چاہتے۔

یہ بیان جمعہ کی رات آیا، جب ٹرمپ نے اعادہ کیا کہ واشنگٹن "گرین لینڈ کے بارے میں کچھ کرے گا، چاہے وہ پسند کریں یا نہ کریں"۔

وائٹ ہاؤس کے اس ہفتے کے  اعلان کہ" ٹرمپ گرین لینڈ خریدنا چاہتا ہے اور اس نے فوجی کارروائی کے امکان کو خارج نہیں کیا"،  کے بعد یورپی ممالک  مربوط ردِعمل تیار کرنے میں مصروف ہیں۔

گرین لینڈ کی پارلیمان میں پانچ جماعتوں کے رہنماؤں  کا کہنا ہے کہ "نہ ہم امریکی بننا چاہتے ہیں  نہ  ہم ڈنمارکی ۔ ہم گرین لینڈ کے شہری  بننا چاہتے ہیں۔"

"گرین لینڈ کا مستقبل گرین لینڈ کے باشندوں کے ذریعے طے ہونا چاہیے۔"

انہوں نے زور دیا"کسی بھی دوسرے ملک کا اس میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔ ہمیں جلد بازی کے دباؤ ، التواء اورر دوسرے ممالک کی مداخلت کے بغیر  اپنے ملک کا مستقبل خود طے کرنا ہوگا ۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جزیرے پر کنٹرول روس اور چین کی آرکٹک میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے پیشِ نظر امریکی قومی سلامتی کے لیے فیصلہ کن ہے۔

،" امریکی صدر نے جمعہ کو کہا تھا کہ"ہم روس یا چین کو گرین لینڈ پر قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔ یہ وہ کریں گے اگر ہم نے ایسا نہ کیا۔ تو ہم گرین لینڈ کے بارے میں کچھ کریں گے، یا تو خوش مزاجی سے یا پھر کسی اور طریقے سے۔

روس اور چین نے حالیہ برسوں میں اس خطے میں فوجی سرگرمیاں بڑھائی ہیں، لیکن کسی نے بھی اس وسیع برفانی جزیرے پر دعویٰ نہیں کیا۔

وسیع قدرتی وسائل

گرین لینڈ نے بھی حالیہ برسوں میں اپنے وسیع قدرتی وسائل، بشمول نایاب زمینی معدنیات اور تیل و گیس کے بڑے ممکنہ ذخائر کی وجہ سے بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے۔

ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹ فریڈریکسن نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر حملہ "سب کچھ" ختم کر دے گا، یعنی ٹرانساتلانٹک نیٹو دفاعی معاہدہ اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد کا سلامتی ڈھانچہ متاثر ہو جائے گا۔

ٹرمپ نے ڈنمارک کے خدشات کو ہلکا لیا ہے، جو ایک مضبوط امریکی اتحادی ہے اور 2003 میں عراق پر امریکی  حملے میں شامل رہا ہے۔

ایک امریکی حملہ واشنگٹن کو نیٹو کے ساتھی رکن ڈنمارک کے خلاف کھڑا کر دے گا اور پورے فوجی اتحاد کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جو باہمی خود دفاع کے اصول پر مبنی ہے۔

سفارتی سرگرمی عروج پر ہے کیونکہ یورپی ملک کوشش کر رہے ہیں کہ بحران کو ٹالا جائے اور ساتھ ہی ٹرمپ کے ردِ عمل سے بچا جائے، جو اقتدار میں واپس آنے کے پہلے سال کے اختتام کے قریب ہیں۔

ٹرمپ نے 2019 میں اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران گرین لینڈ خریدنے کی پیشکش کی تھی مگر اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

نیٹو کی یورپ میں افواج کے سربراہ، امریکی جنرل الیکسسز گرینک وچ نے جمعہ کو کہا کہ فوجی اتحاد ابھی "بحران" کی حالت میں نہیں ہے، اس کے بعد کہ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لانے کی دھمکیاں دیں تھیں۔

 

 

دریافت کیجیے
ایران: ہم، امریکہ کے ساتھ، مذاکرات کے لئے تیار ہیں
چین: ٹرمپ، چین اور روس کو بہانہ بنا رہے ہیں
امرکی و ڈینش حکام گرین لینڈ پر مذاکرات کریں گے: میڈیا رپورٹ
ایران جوہری مذاکرات کے لیے ہم سے رابطے کر رہا ہے:ٹرمپ
جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی مزید 4 فلسطینی ہلاک
ارجنٹائن نے یروشلم میں سفارت خانے کی منتقلی روک دی
اقوام متحدہ کی ایران میں مظاہروں کے دوران طاقت کا بےجا استعمال نہ کرنے کی اپیل
ایران: احتجاجی مظاہرے، 100 سے زیادہ سکیورٹی اہکار ہلاک
ایران: حملہ ہوا تو ہم جوابی کاروائی تک محدود نہیں رہیں گے
امریکہ کی ایران کے خلاف کاروائی کا امکان، اسرائیل چوکنا ہو گیا
بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل ہونا چاہتےہیں:بنگلہ دیش
دہشتگرد تنظیم YPG نے  حلب کا پانی بند کردیا
جنگ بندی کی تازہ خلاف ورزی،اسرائیلی فوج نےمزید 3 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا
ٹرمپ نےفوج کو گرین لینڈ پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا حکم  دے دیا
اسرائیل نے سیز فائر کے باوجود غزہ میں نئے فضائی حملے شروع کر دیے