سیاست
3 منٹ پڑھنے
گرین لینڈ کی سیاسی جماعتوں کا مشترکہ اعلامیہ:"ہم امریکہ کے ماتحت نہیں آنا چاہتے"
یہ بیان جمعہ کی رات آیا، جب ٹرمپ نے اعادہ کیا کہ واشنگٹن "گرین لینڈ کے بارے میں کچھ کرے گا، چاہے وہ پسند کریں یا نہ کریں"۔
گرین لینڈ کی سیاسی جماعتوں کا مشترکہ اعلامیہ:"ہم امریکہ کے ماتحت نہیں آنا چاہتے"
روس اور چین دونوں نے حالیہ برسوں میں خطے میں اپنی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے، لیکن کسی نے بھی اس وسیع برفانی جزیرے پر کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے۔ / Reuters

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر معدنیات سے مالا مال ڈنمارک کے خودمختار علاقے پر فوجی طاقت کے ذریعے قبضے کا اشارہ دیا، جس سے دنیا بھر میں تشویش پیدا ہو گئی ہے تو گرین لینڈ کی سیاسی جماعتوں نے کہا ہے کہ ہم واشنگٹن کے ماتحت  نہیں آنا چاہتے۔

یہ بیان جمعہ کی رات آیا، جب ٹرمپ نے اعادہ کیا کہ واشنگٹن "گرین لینڈ کے بارے میں کچھ کرے گا، چاہے وہ پسند کریں یا نہ کریں"۔

وائٹ ہاؤس کے اس ہفتے کے  اعلان کہ" ٹرمپ گرین لینڈ خریدنا چاہتا ہے اور اس نے فوجی کارروائی کے امکان کو خارج نہیں کیا"،  کے بعد یورپی ممالک  مربوط ردِعمل تیار کرنے میں مصروف ہیں۔

گرین لینڈ کی پارلیمان میں پانچ جماعتوں کے رہنماؤں  کا کہنا ہے کہ "نہ ہم امریکی بننا چاہتے ہیں  نہ  ہم ڈنمارکی ۔ ہم گرین لینڈ کے شہری  بننا چاہتے ہیں۔"

"گرین لینڈ کا مستقبل گرین لینڈ کے باشندوں کے ذریعے طے ہونا چاہیے۔"

انہوں نے زور دیا"کسی بھی دوسرے ملک کا اس میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔ ہمیں جلد بازی کے دباؤ ، التواء اورر دوسرے ممالک کی مداخلت کے بغیر  اپنے ملک کا مستقبل خود طے کرنا ہوگا ۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جزیرے پر کنٹرول روس اور چین کی آرکٹک میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے پیشِ نظر امریکی قومی سلامتی کے لیے فیصلہ کن ہے۔

،" امریکی صدر نے جمعہ کو کہا تھا کہ"ہم روس یا چین کو گرین لینڈ پر قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔ یہ وہ کریں گے اگر ہم نے ایسا نہ کیا۔ تو ہم گرین لینڈ کے بارے میں کچھ کریں گے، یا تو خوش مزاجی سے یا پھر کسی اور طریقے سے۔

روس اور چین نے حالیہ برسوں میں اس خطے میں فوجی سرگرمیاں بڑھائی ہیں، لیکن کسی نے بھی اس وسیع برفانی جزیرے پر دعویٰ نہیں کیا۔

وسیع قدرتی وسائل

گرین لینڈ نے بھی حالیہ برسوں میں اپنے وسیع قدرتی وسائل، بشمول نایاب زمینی معدنیات اور تیل و گیس کے بڑے ممکنہ ذخائر کی وجہ سے بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے۔

ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹ فریڈریکسن نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر حملہ "سب کچھ" ختم کر دے گا، یعنی ٹرانساتلانٹک نیٹو دفاعی معاہدہ اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد کا سلامتی ڈھانچہ متاثر ہو جائے گا۔

ٹرمپ نے ڈنمارک کے خدشات کو ہلکا لیا ہے، جو ایک مضبوط امریکی اتحادی ہے اور 2003 میں عراق پر امریکی  حملے میں شامل رہا ہے۔

ایک امریکی حملہ واشنگٹن کو نیٹو کے ساتھی رکن ڈنمارک کے خلاف کھڑا کر دے گا اور پورے فوجی اتحاد کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جو باہمی خود دفاع کے اصول پر مبنی ہے۔

سفارتی سرگرمی عروج پر ہے کیونکہ یورپی ملک کوشش کر رہے ہیں کہ بحران کو ٹالا جائے اور ساتھ ہی ٹرمپ کے ردِ عمل سے بچا جائے، جو اقتدار میں واپس آنے کے پہلے سال کے اختتام کے قریب ہیں۔

ٹرمپ نے 2019 میں اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران گرین لینڈ خریدنے کی پیشکش کی تھی مگر اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

نیٹو کی یورپ میں افواج کے سربراہ، امریکی جنرل الیکسسز گرینک وچ نے جمعہ کو کہا کہ فوجی اتحاد ابھی "بحران" کی حالت میں نہیں ہے، اس کے بعد کہ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لانے کی دھمکیاں دیں تھیں۔

 

 

دریافت کیجیے
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"