سیاست
2 منٹ پڑھنے
ٹرمپ کی پالیسیوں میں تبدیلی کے تحت تارکینِ وطن کی مشکلات میں اضافہ
صحت کا محکمہ 13 اور پروگراموں کو وفاقی فوائد کی فہرست میں شامل کرتا ہے جو زیادہ تر مہاجرین کے لیے ممنوع ہیں، بشمول ہیڈ اسٹارٹ اور نشہ آور مواد سے بحالی کی مدد۔
ٹرمپ کی پالیسیوں میں تبدیلی کے تحت تارکینِ وطن کی مشکلات میں  اضافہ
FILE PHOTO: Senate Committee on Appropriations hearing on the Department of Health and Human Services budget, in Washington / Reuters

ٹرمپ انتظامیہ نے ایک وفاقی قانون کی تشریح کو وسعت دی ہے تاکہ تارکین وطن کے لیے مزید عوامی فوائد کے پروگراموں تک رسائی کو محدود کیا جا سکے،  اس قانون میں قانونی طور پر امریکہ میں مقیم ہونے والے افراد بھی شامل  ہیں۔

امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات نے اعلان کیا ہے  کہ وہ"وفاقی عوامی فوائد" کے پروگرام کے  زمرے میں شامل دہائیوں پرانی پالیسی کو منسوخ کر رہا ہے، اس پالیسی میں 13 نئی شقوں کو  شامل کیا جا  رہا ہے۔ جس سے کل تعداد 44 ہو گئی ہے۔

نئے شامل کردہ پروگراموں میں ہیڈ اسٹارٹ، منشیات کے عادی افراد کے حوالے سےخدمات، خاندانی منصوبہ بندی،  شعبہ صحت  کی گرانٹس، اور بے گھر افراد کے لیے امداد شامل ہیں۔

HHS کے سیکریٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئرنے ان تبدیلیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا، " ایک طویل عرصے سے حکومت محنت کش  امریکیوں کے ٹیکس کے پیسوں کو غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ افزائی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔"

یہ پالیسی نظرثانی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف وسیع تر کاروائی کا حصہ ہے۔

غیر قانونی اور قانونی افراد پر اثرات

اگرچہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ان افراد کو نشانہ بناتے ہیں جو ملک میں غیر قانونی طور پر موجود ہیں، لیکن کئی اقدامات نے مستقل رہائشیوں اور دیگر قانونی طور پر موجود افراد کو بھی متاثر کیا ہے۔

قانون کے مطابق، زیادہ تر تارکین وطن پہلے ہی حفظان صحت  اور سوشل سیکیورٹی جیسے وفاقی فوائد  سے محروم  ہیں۔

1996 کے پرسنل ریسپانسبلٹی اینڈ ورک اپورچونٹی ری کنسیلی ایشن ایکٹ نے قانونی مستقل رہائشیوں کے لیے کئی فوائد پر پانچ سال کی پابندی عائد کی اور دیگر کو مکمل طور پر روک دیا۔

یہ قانون وفاقی ایجنسیوں پر چھوڑتا ہے کہ وہ یہ طے کریں کہ کون سے پروگرام "وفاقی عوامی فوائد" کے زمرے میں آتے ہیں۔

HHS نے پہلے 1998 میں ایک تشریح جاری کی تھی جس میں 31 پروگراموں کی فہرست دی گئی تھی۔

محکمہ کا کہنا ہے کہ اس رہنمائی نے غلط طور پر کچھ ایسے تارکین وطن کو رسائی دی جو قانونی طور پر اہل نہیں تھے۔

نئی تشریح وفاقی رجسٹر میں شائع ہونے کے بعد نافذ العمل ہوگی، جس کے بعد 30 دن کی عوامی بحث  تبصرہ مدت ہوگی۔

HHS نے کہا کہ نئی فہرست مکمل نہیں ہے اور متاثرہ پروگراموں کے لیے مزید رہنمائی بعد میں جاری کی جائے گی۔

 

دریافت کیجیے
ٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
شی-ٹرمپ مذاکرات میں 30 بلین ڈالر  کے مال و اسباب پر دوطرفہ کسٹم ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ
ایران: رُوٹے نے یورپ کے ایران جنگ میں کردار کا اعتراف کیا ہے
یونانی وزیر اعظم میچوتاکیس: "ہم جغرافیہ تبدیل نہیں کر سکتے، ساتھ ساتھ زہنا ہمارا مقدر ہے"
امریکی سیکرٹری خزانہ: ایرانی اقوام متحدہ وفد کیسے اپنے ملک کو لوٹے گا
ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن: وزیر خارجہ عراقچی کی ٹرمپ کے خصوصی نمائندوں ویٹکوف اور کشنر سے ملاقات
ٹرمپ: غزہ کو اربوں ڈالر کی امداد فراہم کی جائے گی
امریکہ۔ترکیہ ایس-400 تنازع 'حل ہو جائے گا' — امریکی سفیر
ٹرمپ: "میں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں"
ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران یوکرینی اور برطانوی سمیت دیگر رہنماوں سے ملاقات کریں گے
امریکہ عالمی فوجی عدالت پر وسیع پابندیاں لگانے کی تیاری کر رہا ہے — رپورٹ
ٹرمپ نے روس پر پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیے؛ چین اور بھارت کو ممکنہ طور پر 100% ٹیرف کا سامنا
روس نے کیف کو بڑھتی ہوئی ہتھیار کی فراہمی پر برطانوی سفارت کار کو طلب کر لیا
نتن یاہو  نے غزہ میں نسل کشی، ایران، لبنان، شام پر حملوں کو سراہتے ہوئے انتخابی مہم کا آغاز کیا
روس: "خلا میں کی دوڑ کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں"
پولینڈ نے یوکرین پر روسی حملوں کی وجہ سے شروع کردہ فضائی آپریشن ختم کر دیا
صدر ٹرمپ؛ وائٹ ہاؤس ملاقات کے دوران شی سے 'تقریباً ہر موضوع' پر بات ہو گی
جنگوں کے عالمی معیشت کو رخ دینے والے دور میں برکس کے رہنما بھارت میں یکجا
مودی کا پوتن کو مشورہ: تنازعات کو حل کرنے کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے
روسی صدر یوکرین اور ایران میں جنگیں جاری ہونے کے ماحول میں برکس سمٹ کے لیے بھارت میں